خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 700 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 700

خطبات طاہر جلد 17 700 خطبہ جمعہ 9اکتوبر 1998ء اب اس مثال میں کیا تصویر کشی فرمائی گئی ہے۔دودھ جو ماں کا دودھ بچے کی چیخ و پکار پر اس کی خاطر تھنوں سے نکل جاتا ہے اس کی واپسی ممکن نہیں ہوا کرتی۔تو اللہ کی رحمت کا دودھ ہے وہ جب اترتا ہے تو واپس نہیں ہوا کرتا اور چونکہ بچہ کے رونے اور چلانے پر دودھ اترا کرتا ہے اس لئے اس انسان کے آنسوؤں پر جو محض اللہ کی خاطر رویا ہے اللہ کی رحمت کا دودھ اترتا ہے۔پس مثال دی کہ اگر تم نے کبھی دیکھا ہو کہ ماؤں کے تھنوں میں دودھ واپس چلا گیا ہے تو پھر یہ وہم کر سکتے ہو کہ اللہ کی رحمت جو اتر چکی ہو اپنے پیارے پر وہ اس کی طرف واپس لوٹ جائے، یہ نہیں ہوسکتا۔پھر فرمایا: 66 اسی طرح خدا تعالیٰ کی راہ میں اڑایا جانے والا غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں ہو سکتے۔“ (سنن الترمذی کتاب فضائل الجهاد، باب ماجاء في فضل الغبار في سبيل الله ، حدیث نمبر : 1633) وہ غزوہ میں شامل جیالوں کے دستے جو آنحضرت صلی ایم کے پیچھے پیچھے دشمن پر جھپٹا کرتے تھے تو ان کے گھوڑوں کے سموں سے غبار اڑا کرتی تھی اس غبار میں چھپتے تھے یعنی الگ چھپنے کی جگہ نہیں تھی مگر اس تیزی سے جھپٹتے تھے کہ غبار بھی ساتھ ساتھ اڑتی چلی جاتی تھی اور دشمن کو صرف ایک غبار دکھائی دیتی تھی یہاں تک کہ وہ اس کے دستوں میں داخل ہو جایا کرتے تھے۔یہ قرآن کریم میں بھی ایک سورۃ میں بڑی وضاحت سے بیان ہوا ہے فرمایا وہ غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں ہو سکتے۔جہنم کا دھواں بھی ایک غبار ہی تو ہے جس میں ایک چیز چھپ جاتی ہے تو فرمایا یہ دو اکٹھے نہیں ہو سکتے۔پس اس غبار کا ایک منظر تو ہم نے بھی گزشتہ زمانوں میں ربوہ میں دیکھا ہوا ہے۔بعض دفعہ اتنی خشک سردی پڑا کرتی تھی کہ غبار ایک معمولی سی پاؤں کی دھمک سے بھی اڑتی تھی اور جلسے کے دنوں میں مجھے یاد ہے نزلہ، زکام، کھانسی تو اس غبار سے ہو ہی جایا کرتا تھا مگر کپڑے گندے ہو گئے اور چہرے پہ غبار پڑ گئی۔کسی نے حضرت مصلح موعودؓ سے شکایت کی کہ گردوغبار کی وجہ سے یہ حال ہو جاتا ہے تو حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا مبارک ہو۔یہ غبار جو تمہارے چہروں پر پڑتی ہے اور کپڑوں کو میلا کرتی ہے یہ تمہیں جہنم سے بچنے کی خوشخبری دے رہی ہے۔یہ بھی وہ غبار ہے جس غبار کے ساتھ جہنم کا دھواں اکٹھا نہیں ہوگا۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہ غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہ ہو سکنے کا مضمون ایک رنگ میں ہمارے زمانہ میں بھی دو ہرایا گیا ہے اور ہم دیکھتے رہے ہیں اس کو۔