خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 692
خطبات طاہر جلد 17 692 خطبہ جمعہ 2اکتوبر 1998ء احمدی ہورہے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام چاہتے تھے کہ یہ محبت کا سلسلہ ان کے ذریعہ پھیل جائے تا کہ وہ لوگ جو اپنا ایمان اور محبت اور یقین بڑھانے کے لئے شوق رکھتے ہوں : ان پر وہ انوار ظاہر ہوں کہ جو اس عاجز پر ظاہر کئے گئے ہیں۔“ اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر جو انوار ظاہر فرمائے گئے وہ مٹ تو نہیں گئے۔ان کا نور آپ کی زندگی کے ساتھ ختم تو نہیں ہوا بلکہ آپ کے وصال کے بعد پہلا خلیفہ ہی نور کے طور پر اُبھرا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کے نور کی بڑی تعریف فرمائی ہے۔تو یہ استدلال ہے میرا، یہ اتفاقی حادثہ نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جوانوار عطا ہوئے تھے جو آپ بڑھانا چاہتے تھے وہ آپ کے وصال کے بعد بھی جاری رہے ہیں اور حضرت خلیفہ اسیح الاول کی صورت میں اس نئے دور کی بنیاد ڈالی گئی جس میں نوروں کا انتشار ہونا تھا اور یہ انتشار حضرت خلیفۃ البیع الاول کی زندگی تک محدود نہیں تھا ورنہ بالکل بے معنی ہو جاتا۔اگر آپ کی زندگی تک محد و در بنا تھا تو پھر تو بہتر تھا کہ مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی یہ سلسلہ ختم ہو جاتا کیونکہ انوار کا اصل منبع تو آپ ہی تھے اس لئے وہ ایک خوشخبری تھی جماعت کے لئے کہ تمہارے لئے انوار کا سلسلہ ختم نہیں کیا جائے گا۔پس وہ انوار کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات اس نور کو سمیٹے ہوئے ہیں۔ان تحریرات کا جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے گہری نظر سے مطالعہ ضروری ہے ورنہ بعض دفعہ خدا تعالیٰ کے جس کلام سے لوگ نور پاتے ہیں اسی کلام سے لوگ اندھیرے میں بھی چلے جاتے ہیں کیونکہ وہ اپنے نفس کے اندھیرے ساتھ رکھتے ہیں ایسے ہی لوگ ہیں جن کو اندھا کہا گیا ہے ان کی نگاہ کلام کی گہرائیوں تک جاتی ہی نہیں۔اب اسی کلام کو پڑھ پڑھ کر دیکھیں دُنیا میں کتنے مخالف اور معاند مولوی ہیں جن کی گستاخیاں ختم ہونے میں نہیں آرہیں۔وہ عبارت کے کچھ حصہ کو لیتے ہیں، کچھ حصہ کو چھوڑ دیتے ہیں۔جس حصہ کو لیتے ہیں اس کے معانی کو بھی صحیح بیان نہیں کر رہے ہوتے۔اس لئے جماعت کا فرض ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات کو پڑھے بھی اور گہرے غور سے ان کا مطالعہ کرے۔فرمایا: ” ان پر وہ انوار ظاہر ہوں جو اس عاجز پر ظاہر کئے گئے ہیں، یعنی یہ انوار پھر آپ پر بھی نازل ہوں گے۔اس کے دو معنی ہیں۔ایک معنی تو یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات میں مضمر امور کو آپ سمجھ لیں اور