خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 689 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 689

خطبات طاہر جلد 17 689 خطبہ جمعہ 2اکتوبر 1998ء وو سو یہ بھاری معجزہ اندرونی تبدیلی کا جس کے ذریعہ سے فحش بت پرستی کرنے والے کامل خدا پرستی تک پہنچ گئے اور ہر دم دُنیا میں غرق رہنے والے محبوب حقیقی سے ایسا تعلق پکڑ گئے کہ اس کی راہ میں پانی کی طرح اپنے خونوں کو بہا دیا۔“ ا اب عکسی تصویران معنوں میں بھی تھے کہ رسول اللہ سی لیا کہ تم نے چونکہ خون بہا یا تھا اسی طرح آپ ملائیشیا کی تم کے نقش قدم پر چلتے چلتے انہوں نے بھی خون بہایا اور جو الہی رنگ پکڑے وہ سارے آنحضرت مسی یا یہ تم کی مہر کے نتیجہ میں پکڑے ہیں۔پھر فرماتے ہیں : دراصل ایک صادق اور کامل نبی کی صحبت میں مخلصانہ قدم سے عمر بسر کرنے کا نتیجہ تھا۔“ وہ املاء دی والا لفظ ، عمر بھر ، یہ وہی مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دوسرے لفظوں میں بیان فرمایا ہے۔کسی صادق کی صحبت میں عارضی صحبت اختیار کرنے سے وہ نقش دائمی نصیب نہیں ہوا کرتا جس کا مسیح موعود علیہ السلام ذکر فرمارہے ہیں۔صحابہ کے اندر جو پاک تبدیلی تھی وہ عمر بھر کی صحبت تھی۔ایک دفعہ جب اس صحبت میں آگئے تو پھر اس صحبت کو چھوڑنے کا نام نہیں لیا یہاں تک کہ یا ذبح کر دئے گئے خدا کی راہ میں یا طبعی موت مر گئے مگر دونوں صورتوں میں آنحضرت صلی شا یستم کا دامن نہیں چھوڑا۔یہ وہ طریق ہے جس کے نتیجہ میں یہ سب کچھ نصیب ہوتا ہے جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمارہے ہیں۔ایک صادق اور کامل نبی کی صحبت میں مخلصانہ قدم سے عمر بسر کرنے کا نتیجہ تھا سو اسی بناء پر یہ عاجز اس سلسلہ کے قائم رکھنے کے لئے مامور کیا گیا ہے۔“ پس اب خدا کی راہ میں قربانی دینے والے خواہ وہ پاکستان میں ہوں یا دوسری جگہوں پر ہوں یہ بھی پڑھیں ، ان باتوں پر بھی نگاہ کریں تو ان کی قربانیاں تو ایک ایسا اعزاز ہیں کہ قیامت تک ان کی نسلیں اس پر فخر کریں گی۔ان کے آباؤ اجداد کی روحیں ان پر فخر کریں گی۔ان کا قرآن میں ذکر فرمایا گیا۔قَلِيلٌ مِّنَ الْآخِرِينَ - اول درجہ کے تھے گو تھوڑے تھے مگر آخرین میں بھی تھے تو اس کے بعد جو دلوں میں رنج رہ جاتے ہیں اور شکایتیں پیدا ہوتی ہیں اور بعض لوگ یہ لکھتے ہیں کہ ہمارے فلاں نے قربانی دے دی اب ہمیں اس طرح باہر بھجوادیا جائے یا فلاں ہم سے رعایت کی جائے۔وہ اگر نہ بھی کہیں تو جو بھی جماعت کے لئے ممکن ہے وہ ضرور کرے گی اور ضرور کرتی ہے مگر جہاں مطالبہ ہونٹوں