خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 688
خطبات طاہر جلد 17 688 خطبہ جمعہ 2 اکتوبر 1998ء کے دونوں ہی معنے ہیں ۔ شَهِدُوا کا ایک مطلب ہے گواہی دی اور ایک مطلب ہے شہید ہو گئے تو دراصل ان کا شہید ہونا ہی گواہی تھی ۔ پس تشھدوا کا جو پہلا مضمون ہے وہی اس لفظ کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے کہ تلواروں کے سائے تلے محض زبانی گواہیاں نہیں دیں ۔ یہ گواہیاں دیتے دیتے شہید ہو گئے اور ان کی شہادت یعنی خدا کی راہ میں جان دینا ہی دراصل وہ شہادت تھی جو ہمیشہ ہمیش کے لئے زندہ رہے گی ۔ فی الاملاء کا مطلب ہے عمر بھر ایسا ہی کرتے رہے جب تک ان کو توفیق ملی یہ دونوں باتیں ان کی فطرت ثانیہ بنی رہیں بلکہ فطرت اولی کہنا چاہئے ۔ یہی ان کی اول فطرت تھی یعنی اللہ کے ہو کر محمد رسول اللہ صل الا السلام کے عشق میں مبتلا اور اس عشق کے نتیجہ میں پھر اللہ کے عشق کا وہ مقام حاصل کرنا جو رسول اللہ صلی الہ السلام کے عشق کے بغیر حاصل کرنا ممکن نہیں تھا۔ وو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریروں میں سے جو نثر میں ہیں یہ ایک تحریر میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں جو اُردو میں ہے اس لئے اس کے ترجمہ کی ضرورت نہیں پڑی۔ فرماتے ہیں : وہ سب آنحضرت صلی السلام کی عکسی تصویریں تھے۔“ اب اس مضمون میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خاتم النبیین کا جو سب سے اعلیٰ مفہوم ہے وہ بیان فرمارہے ہیں۔ خاتم اس انگوٹھی کو کہتے ہیں جس کے نقوش جس جگہ لگائی جائے وہاں چسپاں ہو جائیں ۔ پس آنحضرت صلی ایلام خاتم الانبیاء کن معنوں میں تھے۔ ایک معنی تو یہ ہے کہ نبیوں کے خاتم اور دوسرا ہے کہ سب نبیوں کی صفات آپ ملا تھا کہ تم میں جمع تھیں جس پر آپ مالی یا ایہام کی مہر لگتی تھی گویا سب نبیوں کی مہر لگ گئی ۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریروں کو اگر بار یک نظر سے پڑھیں تو ان کے اندر عظیم معانی مخفی دکھائی دیتے ہیں جب ان پر نظر پڑتی ہے تو انسان کی روح وجد میں آجاتی ہے۔ صحابہ عکسی تصویریں تھے لیکن وہ تصویر ہر کاغذ پر ایک ہی طرح نہیں بنا کرتی ۔ کہیں ہلکی بنتی ہے کہیں تیز بنتی ہے، دباؤ کی بات ہے وہ کاغذ کتنا دباؤ قبول کرتا ہے اور کتنا دباؤ ڈالا گیا ہے۔ پس سارے صحابہ کا رنگ تو ایک ہی تھا اس پہلو سے کہ جو بھی تصویر آپ کی بنی آنحضرت صلی السلام ہی کی تصویر تھی اور سب کے متعلق ایک ہی بات کہہ کر ان کے مدارج کے فرق کو بھی ملحوظ رکھ لیا۔ اپنا اپنا عشق تھا ، اپنا اپنا رنگ تھا مگر جو بھی پیاری تصویر ابھری ہے وہ محمد رسول اللہ صلی ما کی یہ ہی کی تصویر تھی ۔