خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 687 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 687

خطبات طاہر جلد 17 687 خطبہ جمعہ 2 اکتوبر 1998ء قدمُ الرِّجَالِ لِصِدْقِهِمْ فِي حُبّهِمْ تَحْتَ السُّيُوفِ أُرِيقَ كَالْقُرْبَانِ پس ان جوانمردوں کا خون اپنی محبت میں ، اپنی سچائی کی وجہ سے تلواروں کے نیچے قربانیوں کی طرح بہادیا گیا۔اب قربانیوں کا خون بہتا ہوا تو سب نے دیکھا ہے۔اگر کسی کو کوئی نماز روزے کی توفیق نہ بھی ملے تو آج کل رواج ہے کہ قربانی پیش کرنے میں ضرور کوشش کی جاتی ہے تو حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں جس طرح قربانی کا خون یہ سب جانتے ہیں کہ کیسے بہتا ہے ، کس طرح اچھل اچھل کر نکلتا ہے اس طرح آنحضرت صلی للہ ایم کا خون اللہ کی محبت میں بہا ہے اور رسول اللہ صلی ایم کے اقدام کے نتیجہ میں بہا ہے اور اللہ کی محبت محمد رسول اللہ صلی ایام کی محبت کی بناء پر نصیب ہوئی۔ایک ایسا عاشق جو پاگل ہو رہا ہو عشق میں، ایسے عاشق کی طرح محمد رسول اللہ لا الہ السلام کے پیچھے پیچھے چلا کرتے تھے۔ایک دوسری جگہ میٹر الخلافة، روحانی خزائن جلد 8 میں صفحہ 397 پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر ہے: ذُبِحُوا وَمَا خَافُوا الوَرَى مِنْ صِدْقِهِمْ بَلْ أَثَرُوا الرَّحْمَن عِنْدَ بَلَاءِ تحت السُّيُوفِ تَشَهَدُوا لِخَلُوصِهِمْ شَهِدُوا بِصِدْقِ الْقَلْبِ فِي الْأَمْلَاءِ وہ اپنے صدق کی وجہ سے ذبح کئے گئے اور لوگوں سے خوف نہ کھایا بلکہ ہر سخت ابتلاء کے دوران رحمن کو ترجیح دی۔انہوں نے اپنے خلوص کی وجہ سے تلواروں کے سایہ تلے حق کی گواہی دی۔تحت السُّيُوفِ تَشَهدُوا۔اب تشہد میں آپ بیٹھتے ہیں تو لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ پڑھتے ہیں تو انہوں نے تلواروں کے سائے تلے یہ گواہیاں دی ہیں۔یہ نہیں کہ آرام سے بیٹھے ہوئے تھے تو وہ درود پڑھ رہے تھے اور تشہد پڑھ رہے تھے، تلواریں چل رہی تھیں اس کے نیچے نیچے یہ آواز میں بلند ہو رہی تھیں۔شَهِدُوا بِصِدْقِ الْقَلْبِ فِي الْأَمْلاءِ - املاء کا ایک ترجمہ مجالس بھی ہے لیکن یہاں تو مجالس کی بات نہیں ہو رہی یہاں تو جنگوں کی بات ہو رہی ہے۔پس املاء کا ایک مطلب ہے زندگی بھر ، ساری زندگی۔تو اس ترجمہ کو بھی میں نے اخذ کیا ہے۔جس کا مطلب یہ بنے گا شَهِدُوا بِصِدْقِ۔شَهِدُوا کے لفظ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دونوں معنی داخل فرما لئے ہیں کیونکہ اس