خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 680
خطبات طاہر جلد 17 680 خطبہ جمعہ 2اکتوبر 1998ء چونکہ خشوع کا مضمون چل رہا ہے اسی لئے میں نے ایک خشوع سے تعلق رکھنے والی یہ آیت آج تلاوت کی ہے۔اس ضمن میں مجھے پہلے مضمون کی طرف واپس لوٹنا ہوگا جہاں قطرات خون کے بہنے کا ذکر تھا، جہاں یہ ذکر تھا کہ ایک ایسا وقت بھی آئے گا کہ اللہ ایک ایک قطرہ کو پیار کی نظر سے دیکھے گا اور اس میں میں نے یہ عرض کیا تھا کہ معلوم یہ ہوتا ہے کہ ایسے زمانے کی باتیں ہیں جہاں نسبتا کم لوگوں کو خون کی قربانی دینے کی توفیق ملے گی اور ایسی صورت میں جہاں قربانی کم ہو جائے اس وقت قیمت بھی بڑھ جایا کرتی ہے۔ان معنوں میں کہ تھوڑی چیز کی بھی قیمت بڑھ جاتی ہے تو اس پہلو سے یعنی بڑھتی تو نہیں مگر تھوڑی چیز کی بھی قیمت بڑھ جاتی ہے۔تو اس زمانہ کے لوگوں کا ذکر میں نے کیا اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت کو واقعہ خون بہانے کا بھی موقع ملا ہے خدا کی راہ میں اس طرح بعض احمدی شہید ہوئے ہیں کہ وہ سارا رستہ خون سے بھر گیا۔پس بکثرت تو نہیں مگر ایسے واقعات ضرور ملتے ہیں کہ جہاں جماعت احمدیہ کے فدائیوں کو اپنا خون اس طرح بہانے کا موقع ملا جیسے بکریاں ذبح کر دی گئی ہوں لیکن جو پہلے لوگ تھے ان میں یہ بہت زیادہ تھے یعنی آنحضرت صلی یتیم کے زمانہ میں یہ خدا کی راہ میں خون بہانا جو ہے وہ اس سے بہت زیادہ ملتا ہے جتنا اب ملتا ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا : تلَةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ - وَقَلِيلٌ مِنَ الْآخِرينَ (الواقعة : 15،14) یعنی کچھ قربانیاں ایسی ہیں جن میں پہلے تعداد کے لحاظ سے بہت بڑھ گئے۔ایک بھاری جماعت ہے ان میں سے جو پہلوں میں سے ہیں لیکن بعد والوں کو بھی ضرور ان قربانیوں کی توفیق ملے گی لیکن نسبتا کم۔وَقَلِيلٌ مِّنَ الْآخِرِينَ اور بعد میں، آخر میں آنے والے لوگوں میں سے نسبتاً تھوڑے ہوں گے۔پس بعد میں آنے والوں کا تو ذکر میں نے کیا لیکن فلةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ کا ذکر نہیں کیا تھا۔اس مضمون کو اس لئے میں اب دوبارہ اٹھا رہا ہوں کہ آنحضرت صلی للہ یہ یتیم کے زمانہ میں جو خدا کی راہ میں خون بہایا گیا اس کا کیا عالم تھا۔سب سے پہلے یہ یادرکھنے کے لائق بات ہے کہ اول خون بہانے والے آنحضرت صلی ا یہ ہم تھے۔آپ صلی شا یہ ہیم کا خون بارہا اس طرح بہا ہے جیسے قربانیاں ذبح کر دی گئی ہوں۔ایک دفعہ نہیں متعدد دفعہ ایسا ہوا ہے اور آپ صلی ا یت ہی ان معنوں میں اول الشہداء ہیں اور آپ علیہ السلام کے بڑھنے سے پھر باقی قوم نے قدم آگے بڑھایا۔اگر آنحضرت صلیہ الی یتیم کا خون اس راہ میں نہ بہایا جاتا تو صحابہ کو توفیق نہ مل سکتی تھی کہ اس شان کے ساتھ خدا کے حضور اپنے خون کی