خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 57 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 57

خطبات طاہر جلد 17 57 خطبہ جمعہ 23 جنوری 1998ء آج رمضان کی چوبیسویں ہے اور پیچھے کتنے دن باقی ہیں، چھ دن ۔ كُلُهُمْ ۔ تو چھ دن کے اندر آپ نے جو کمائیاں کرنی ہیں کر لیں اور اس جمعہ کو ان معنوں میں وداع نہ کہیں کہ رمضان کا باقی حصہ بھی سارے رمضان کو وداع کہہ دے ۔ کم سے کم یہ چھ دن اگر آپ آنحضرت صلی السلام کی پیروی میں رمضان گزاریں تو اگر حقیقت میں آنحضرت صلی ال اسلام کی پیروی کریں خواہ چھ دن کی پیروی کی توفیق ملے آپ کی ساری زندگی اس سے سنور سکتی ہے۔ رسول اللہ صلی السلام کے پیچھے چھ دن چلنا ایک بہت بڑی بات ہے۔ چھ دن چلنے سے ہزاروں سال دوسرے بزرگوں کے پیچھے چلنے کی نسبت زیادہ فائدہ پہنچتا ہے کیونکہ آنحضرت صلی السلام تمام بزرگی کا خلاصہ ہیں ، تمام انبیاء کا معراج ہیں ۔ اس لئے آپ کے پیچھے چلنے کی توفیق ملے اور اس زمانہ میں یہ توفیق ملے اور آپ صلی ال اسلام کی غلامی میں ظاہر ہونے والے امام کے پیچھے چلنے کے نتیجہ میں یہ شرف حاصل ہو تو اس سے زیادہ آپ کو کیا چاہئے ۔ پس لیلتہ القدر یعنی ایک لیلتہ القدر کی تلاش نہ کریں، یہ زمانہ لیلۃ القدر ہے۔ یہ سارا زمانہ جس کی آنحضرت صلی الله السلام نے پیش گر نے پیش گوئی فرمائی تھی کہ اسلام پر ایسی صبح طلوع : طلوع ہونے والی ہے جو پھر کبھی لمبے عرصہ تک اندھیروں میں تبدیل نہیں ہو گی یعنی بہت لمبا عرصہ گزرے گا کہ وہ نیکیاں جاری وساری ہوں گی ان میں کوئی بھی کسی قسم کا خلل ڈالنے والا انسان پیدا نہیں ہو گا اگر ڈالے گا تو اس کی کوششیں ناکام رہیں گی ۔ یہ تفاصیل ہیں جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں کن شرطوں کے ساتھ پوری ہوتی ہیں مگر یہ زمانہ جو ہمارا زمانہ ہے یہ لیلتہ القدر کا زمانہ ہے۔ پس آخری عشرہ میں لیلتہ القدر کی تلاش کریں لیکن ان معنوں میں لیلتہ القدر کی تلاش کریں کہ وہ آپ کی زندگی سنوار دے اور آپ اسلام کی اس لیلتہ القدر میں شامل ہو جائیں جولیلتہ القدر ایک صبح کی خوشخبری لائی ہے اور یہ صبح اب کبھی ختم نہیں ہوگی یا نہیں ہونی چاہئے ۔ اس بات کا انحصار کہ کبھی ختم نہیں ہوگی ہر احمدی کی ذات پر ہے۔ اگر اس کے ہاں کوئی صبح طلوع ہو جائے، اگر اس کے دل پر نور کا سورج نکل آئے یعنی آنحضرت صلی الا کہ تم اس دل میں بسیرا کر لیں تو پھر جس کثرت سے ایسے احمدی ہوں گے اسی شدت سے ہم یقین کریں گے کہ ہماری صبح دائمی صبح ہے۔ پس آج دنیا بھر کے احمدیوں کو خصوصیت کے ساتھ میں مخاطب ہوں یعنی ان احمدیوں کو جنہوں نے سارا سال ضائع کر دیا، جنہوں نے رمضان کا بیشتر حصہ ضائع کر دیا اب آخری عشرہ کے یہ چند دن باقی ہیں ان میں کمر ہمت کس لیں اور رمضان کے فیوض سے وہ فائدہ اٹھالیں جو ان کی