خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 675
خطبات طاہر جلد 17 675 خطبہ جمعہ 25 ستمبر 1998ء پڑ جاتے ہیں جن کی طرف ان کو جب تک توجہ نہیں دلائی گئی تو جہ ہوئی ہی نہیں ہوگی لیکن اللہ کی ان کی طرف توجہ ہے۔کتنا مہربان ہے، کس قدر اپنے بندوں پر پیار اور محبت کی نظر ڈالنے والا۔آنحضور ملی نیا کی تم فرماتے ہیں اللہ ان نشانوں کو دیکھتا ہے اور محبت کرتا ہے ان سے اور ایسے نشانوں سے زیادہ اس کو کوئی نشان عزیز نہیں جو خدا کی خاطر پڑ گئے ہوں۔اس 'خدا کی خاطر لفظ نے پاؤں کے نشانوں کو بھی دوسرے لوگوں کی عبادت سے ممتاز کر دیا کیونکہ جن کی عبادت خالصہ اللہ نہیں ان کے نشان بھی اللہ نہیں اور ایک ایسا امتیاز کر دیا جو کھلم کھلا ہر ایک کو دکھائی دے سکتا ہے۔خدا تعالیٰ کی خاطر وقار عمل کرنے والوں کی دنیا میں ایک ہی جماعت ہے جو جماعت احمد یہ ہے۔دوسرے لوگ جو کام کرتے ہیں بعض دفعہ جہاد کے نام پر بھی ان کو بڑی محنت کرنی پڑتی ہے لیکن جو جہاد ہی اللہ کے ہاں مقبول نہ ہو اس کو جہاد کا نام تو دیا گیا ہو مگر وہ محض دُنیا میں ایک فساد پھیلانے کا ذریعہ بنا ہوا ہو اس سلسلہ میں جتنے نشان پڑتے ہیں وہ الگ ہیں۔میں جن نشانوں کی بات کر رہا ہوں وہ بالکل الگ نشان ہیں اور کسی ہنگامی خطرہ کے وقت کے وہ نشان نہیں ہوتے۔اب خدا کو کون سا خطرہ ہے، کونسی مصیبت پڑی ہوئی ہے کہ وہ دوڑے جائیں اور اللہ کی خاطر کرالیں اٹھا لیں۔یہ جو دوسرے نشان ہیں یہ ہمیشہ خطروں کی علامتیں ہیں۔جب بڑے بڑے بند لگانے پڑتے ہیں سیلابوں کے خطرے سے، جب فوجوں کو خطرہ در پیش ہو وہ کھدائی کرتی ہیں اپنے مورچوں کی تو یہ اور مضمون ہے۔ہر جگہ اپنے نفس کا بچاؤ شامل ہے اس میں لیکن جن خدام کو بلایا جاتا ہے یا جن انصار کو وقار عمل کے لئے بلایا جاتا ہے، لجنات کو بلایا جاتا ہے، ان کو دُنیا سے کون سا خطرہ ہے جس سے پناہ ڈھونڈتے ہوئے وہ ان خدمتوں کے لئے حاضر ہوتے ہیں۔نہ آئیں تو امن سے گھر میں بیٹھیں گے کوئی دباؤ نہیں ، کوئی قانون نہیں جوان کو مجبور کر رہا ہو اور جماعت کی طرف سے تحریص ہے صرف، دعوت ہے کہ آجاؤ ، نہ آؤ تو کوئی گناہ نہیں۔جماعتی کاموں ، جماعتی خدمتوں سے ان کو ہر گز محروم نہیں کیا جاتا اس جرم میں کہ وہ وقار عمل میں شامل نہیں ہوئے۔پس یہ باریک فرق ہیں جن کو آپ پیش نظر رکھیں تو میرا یہ دعویٰ بالکل درست ثابت ہوگا کہ اللہ کی خاطر جن نشانوں کا اس حدیث میں ذکر ہے وہ نشان آج احمدیوں کے لئے مخصوص ہو چکے ہیں اور بڑی بھاری سعادت ہے۔پس آپ بھی کبھی کبھی ان نشانوں کو پیار سے دیکھا کریں جن کو خدا پیار سے دیکھتا ہے اور اس دیکھنے کا لطف ہی کچھ اور ہوگا۔