خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 669 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 669

خطبات طاہر جلد 17 669 خطبہ جمعہ 25 ستمبر 1998ء سوچتے رہتے ہیں۔پس آپ کا ہر علم اس کام کے لئے وقف ہو جانا چاہئے اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ جماعت احمد یہ اس نصیحت کو بڑے غور سے سمجھے گی اور اپنے پلے باندھ لے گی۔جہاں تک خشوع کا تعلق ہے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ راتوں کوچھپ کر ہی خدا کے حضور رونا خشوع ہے اور دن کو خدا کے حضور رونا خشوع نہیں ہے، یہ بات درست نہیں ہے۔اللہ کی یاد جب دل پر قبضہ کر جائے اور انسان اس کے لئے اپنے آپ کو دنیا سے الگ کر لے تو اس وقت خشوع پیدا ہونا ایک لازمی حصہ ہے۔آنحضور صلی اما اینم کے متعلق بھی ایسی روایات کثرت سے ملتی ہیں جن میں رات کی خشوع کا ذکر ہے یعنی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی یا دوسری امہات المومنین کی کہ رات کو چھپ کر آپ صلی ای یتیم خدا کے حضور رویا کرتے تھے مگر ان روایات کی طرف لوگوں کی توجہ نہیں جہاں دن کے وقت آپ صلی له ای نیم کے خشوع کا ذکر بھی ملتا ہے۔چنانچہ انہی روایات میں سے ایک روایت مسند احمد بن حنبل سے میں نے اخذ کی ہے۔باب ما جاء فی بکاء رسول اللہ ﷺ۔وہ باب جو آنحضرت صلی ال ایتم کی آہ و بکا کے متعلق ہے کس طرح آپ گریہ وزاری کیا کرتے تھے۔حضرت مطرف رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ : میں آنحضرت صلی للہ اسلام کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ صلی لا الہ الم نماز پڑھ رہے تھے۔“ اب دو باتیں اس میں قابل توجہ ہیں۔آدھی رات کو اٹھ کے تو نہیں لوگ سیدھا رسول اللہ صلی یتیم کے خلوت خانوں میں چلے جایا کرتے تھے۔یہ تو ناممکن ہے۔سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔پھر دوسری بات یہ کہ وہ پبلک جگہ تھی غالباً مسجد تھی جہاں ہر کس و ناکس جا سکتا تھا۔تو حضرت مطرف روایت کرتے ہیں اپنے باپ سے کہ: میں آنحضرت صلی شما اینم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ سال یا آیتم نماز پڑھ رہے تھے۔آپ صلی ایم کے سینہ مبارک سے اللہ تعالیٰ کے حضور رونے کی وجہ سے ہنڈیا کے ابلنے کی جیسی آواز آرہی تھی۔“ : (مسند احمد بن حنبل، حدیث مطرف بن عبد اللہ عن ابیہ ،مندنمبر :16326) پس یہ جس طرح ہنڈیا ابلتی ہے یہ نقشہ حضرت عائشہ صدیقہ نے بھی آنحضور سی ال ایام کے رونے کے متعلق بیان فرمایا ہوا ہے جو رات کے وقت تھا۔دن کو بھی آپ صلی یہ تم کے سینہ مبارک کا یہی حال ہوتا