خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 670 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 670

خطبات طاہر جلد 17 670 خطبہ جمعہ 25 ستمبر 1998ء تھا اور بعینہ وہی لفظ ایک اور راوی جس نے دن کو آپ صلی یا ایہام کو دیکھا استعمال کر رہا ہے۔اس سے پتا چلتا ہے کہ اس سے بہتر آنحضور صل للہ ایم کے قلب کی حالت کے بیان کے لئے اور کوئی محاورہ نظر نہیں آتا۔جو محاورہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کو سوجھا بعینہ وہی محاورہ حضرت مطرف کے والد نے استعمال فرمایا۔چنانچہ کہتے ہیں کہ آپ صلی ای ایم کے سینہ مبارک سے ہنڈیا کے ابلنے کی آواز جیسی آواز آرہی تھی۔پس نمازوں میں اس قسم کا رونا اختیار کرنا چاہئے مگر جب میں کہتا ہوں اختیار کرنا چاہئے تو اس کے نتیجہ میں مجھے ایک خوف بھی پیدا ہوتا ہے۔آنحضور صلی لایم جس حالت میں بھی گریہ وزاری کر رہے تھے دکھانا مقصود نہیں تھا اور سنانا مقصود نہیں تھا لیکن بعض دفعہ لوگوں کے رونے کی اور چلانے کی آواز اس طرح آتی ہے کہ گویا وہ خدا کی طرف توجہ کرنے سے زیادہ اپنی توجہ مبذول کروا ر ہے ہیں۔ایسی حالت میں آوازوں کو دبانا چاہئے۔یہ مثال ہے اصل میں اس کے اندر یہ مضمون داخل ہے۔ہنڈیا کے اہلنے کی آواز جب قریب جاؤ تو آیا کرتی ہے۔دوسرے ہنڈیا کی چیخوں کی آواز آپ نہیں سنا کرتے۔پس وہ چیخ و چہاڑ جو بعض لوگ نمازوں میں مچاتے ہیں وہ تو سب نماز پڑھنے والوں کی نمازیں خراب کر دیتی ہیں۔جب نمازوں کے علاوہ کوئی دعا ہو اور اس میں بے اختیار چیخ نکل جائے تو اس پر کوئی حرف نہیں لیکن خصوصیت سے نماز کے وقت چیخوں سے اجتناب لازم ہے کیونکہ اس سے دوسرے تمام نمازیوں کی نماز خراب ہو جاتی ہے اور یوں لگتا ہے کہ صرف چند ہی ہیں جو رونے پیٹنے والے ہیں باقی سب کو خشوع کا علم ہی کچھ نہیں۔یہ غلط ہے۔اس لئے ہنڈیا کے اُبلنے کے مضمون کو پیش نظر رکھیں اور یا درکھیں جب دل میں گڑ گڑاہٹ اٹھتی ہے تو قریب کے لوگوں کو اس کی آواز بھی آجائے گی مگر اس وقت اپنے اوپر ضبط کرنا اور چیخیں نہ مارنا بتا رہا ہے کہ جو گڑ گڑاہٹ کی آواز ہے وہ بے اختیاری کی حالت ہے اس کو دبایا جاہی نہیں سکتا۔جس طرح وہ آنسو جو بے اختیار نکل آئیں ان کو لوگ آخر دیکھ ہی لیتے ہیں مگر جن پہ کوئی اختیار نہ رہے وہ آنسو ہیں جو خدا کی محبت میں بہنے والے آنسو ہیں از خود پھوٹتے ہیں اور پھر دیکھنے والے دیکھتے بھی ہیں۔ایک اور روایت حضرت ابو امامہ سے اخذ کی گئی ہے یعنی ان کی یہ روایت ہے۔ابوامامہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اینم نے فرمایا کہ: اللہ کے نزدیک دو قطروں اور دو نشانوں سے زیادہ کوئی چیز پسندیدہ نہیں۔“