خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 665
خطبات طاہر جلد 17 665 خطبہ جمعہ 25 ستمبر 1998ء کو علم ہی کوئی نہیں کہ ذکر الہی کیا ہوتا ہے اور یہ بناء ہے کہ اس ذکر کی وجہ سے تم کبھی بھی ان کی آنکھیں ڈبڈبائی ہوئی نہیں دیکھو گے۔ان سے پناہ کا مطلب یہ ہے کہ اپنی امت کو یہ نصیحت فرمائی گئی ہے کہ ان کے اثرات سے خدا کی پناہ مانگنا۔اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو ہر گز بعید نہیں کہ تم بھی رفتہ رفتہ انہی کے رنگ میں ڈھلتے چلے جاؤ گے اور ویسے ہی دل تمہارے دل بھی ہو جائیں گے۔یہ امر واقعہ ہے کہ وہ بھاری تعداد مسلمانوں کی جو ان لوگوں سے متاثر ہیں اور دُنیا طلبی میں ان کی ساری زندگی خرچ ہو رہی ہے وہ ذکر الہی میں خشوع سے نا آشنا ہیں۔کبھی کبھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ شایدان کے دل میں بھی خشوع ہے یعنی اس وقت جبکہ وہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ میں حاضر ہوتے ہیں تو ان میں سے بھی بہت سے لوگوں کی آپ چنیں نکلتے دیکھیں گے لیکن اس خشوع میں اور ان دلوں میں جو خشوع سے عاری ہیں بہت بڑا فرق ہے۔وجہ یہ ہے کہ اس وقت وہ خدا کی محبت میں نہیں روتے ، اپنی ضرورت کے لئے روتے ہیں اور سارے سال کے جو اپنے گناہ یاد آ جاتے ہیں ان پر روتے ہیں مگر خشوع میں رونا محبت الہی کی وجہ سے ہے۔یہ بنیاد ہے اس رونے کی اور آنحضرت سلی یہ تم محبت الہی کی وجہ سے رویا کرتے تھے اور یہ ایک ایسا رونا ہے جو بے اختیار ہے جب ذکر چل پڑے تو آنکھیں ڈبڈبا جاتی ہیں۔ایسے آخر زمانہ سے آنحضرت ملا ہی ہم نے پناہ مانگی ہے جس زمانہ میں ایسے دل ہوں گے اور میں سمجھتا ہوں کہ امت محمدیہ صل للہ الی یتیم کے لئے ایک بہت بڑی تنبیہ ہے۔چنانچہ پھر فرمایا: ”ایسی دعا سے جو سنی نہیں جاتی۔اب میں نے ذکر کیا تھا کہ وہ دعا ئیں بہت مانگتے ہیں اپنی ضرورت کے وقت مصیبت میں مبتلا ہو کر بظاہر روتے اور چلاتے ہیں مگر جن کے دل اللہ کی محبت کی وجہ سے رونا نہ جانتے ہوں ان کی دعائیں سنی نہیں جاتیں۔پس فرمایا ایسی دعا سے جو سنی نہیں جاتی۔اب آپ دیکھ لیں کہ آنحضرت صلی اللہ یتیم لازما اپنے متعلق بات نہیں کر رہے کیونکہ آپ سائی یتم کی دعا تو ہمیشہ ہرلمحہ سنی جاتی ہے۔دعا دل میں پیدا ہونے سے پہلے بھی سنی جاتی تھی۔کیا آنحضرت مال لا الہ اتم پر وہ آیات نازل نہیں ہوئیں جن میں حضرت ذکریا کا ذکر تھا اور فرمایا گیا کہ وَلَمْ أَكُن بِدُعَابِكَ رَبِّ شَقِيًّا (مریم :5) اے میرے رب میں نے کبھی بھی اپنی دعا کی قبولیت کے بارے میں جو تیرے حضور کی گئی ہو اپنے آپ کو بدنصیب نہیں پایا۔ہر دعا جو کی وہ ہر دعا تو نے سنی۔پس آنحضرت صلی الا یہ تم خود اپنے لئے ایسے دل سے کیسے پناہ مانگ سکتے ہیں۔تو یہ مضمون متعلق ہے یہ سارا سلسلہ اسی آخری