خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 666
خطبات طاہر جلد 17 666 خطبہ جمعہ 25 ستمبر 1998ء دور کا چل رہا ہے جس میں لوگ اللہ کی خشیت کی وجہ سے اور خشیت اور خشوع و خضوع ان دونوں کو عرب اہل لغات نے ہم معنی قرار دیا ہے۔اس پہلو سے کہ خشوع کے اندر خشیت یعنی اللہ کا خوف شامل ہے اور اس کی محبت بھی شامل ہے لیکن خشیت میں صرف محبت شامل نہیں تو خشوع ایک حاوی لفظ ہے جو بہت وسیع معنوں پر اطلاق پاتا ہے۔اس پہلو سے ایسی دعا سے جو سنی نہیں جاتی آنحضرت ملا لیا نیستم یقیناً ان لوگوں کی باتیں فرما رہے ہیں جو آئندہ زمانہ میں کبھی کبھی نمازوں میں گریہ وزاری کرتے ہوئے دکھائی دیں گے مگر چونکہ محبت الہی کی وجہ سے ان کی گریہ وزاری نہیں اس لئے ان کی ایک نمایاں علامت ہوگی کہ ان کی دعائیں سنی نہیں جاتیں اور سنی نہیں جائیں گی اور بڑی بھاری تعداد ایسے لوگوں کی ملتی ہے وہ دعائیں کرتے ہیں، روتے پیٹتے ہیں، مگرسنی نہیں جاتیں۔پھر شکوہ کر کے اور بھی خدا سے دور ہٹ جاتے ہیں وہ کہتے ہیں کیا فائدہ اس رونے پیٹنے کا۔جب وہ ہماری سنتا ہی نہیں اور بعض احمق نوجوان احمدیوں میں بھی ایسے نظر آ جاتے ہیں کہیں کہیں جنہوں نے اپنے امتحان کے لئے دعائیں مانگیں اور روئے پیٹے اور آخر یہ نمازیں بھی چھوڑ بیٹھے کہ ہم نے تو دعا مانگی تھی وہ قبول نہیں ہوئی اس لئے نمازوں کا فائدہ ہی کوئی نہیں۔تو یہ انہی سب کا ذکر ہے، انہی کو متنبہ کیا جارہا ہے کہ جب امن کی حالت میں تمہیں اللہ کی محبت میں رونا نہیں آیا کرتا تھا تو اب اپنے مقصد کے لئے جو اس کے پاس جا کے چلاتے ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ایسی دعا ئیں نہیں سنی جائیں گی۔یہ قطعیت کے ساتھ پیشگوئی ہے اس لئے کوئی اس تقدیر الہی کو تبدیل نہیں کر سکتا۔پھر فرمایا: ”ایسے نفس سے جو سیر نہیں ہوتا۔“ تو آنحضرت سی ایم کی سیری تو ایسی سیری تھی کہ دنیا ومافیہا کا سب کچھ آپ صلی شما یہ تم کو عطا کیا گیا مگر آپ صلی ہیں یہ تم نے اس سے استغناء فرمایا۔آپ صلی یم کی ساری زندگی سیری کی ایسی مثال پیش کرتی ہے کہ کبھی دُنیا کے کسی نبی نے ایسی مثال پیش نہیں کی۔تو آپ صلی ا سلم فرمارہے ہیں ایسے نفس سے جو سیر نہیں ہوتا۔لازم ہے کہ اپنا نفس مراد نہیں ہے۔وہی دُنیا مراد ہے جس دُنیا کی باتیں فرما رہے ہیں یعنی آئندہ آنے والی دُنیا اور وہ دُنیا سیر نہیں ہوگی۔مادہ پرست سیر ہوتا ہی نہیں وہ جتنا زیادہ مانگے اگر وہ مانگا ہوا بھی سارا اُس کو دے دیا جائے تو وہ سیر نہیں ہوگا ، مزید چاہے گا کیونکہ اس کی مثال جہنم کی سی ہے جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے وہ کہے گی هَلْ مِنْ مَزِيدٍ (3: 31) جب بھی خدا ایندھن جھونکے گا تو وہ پوچھے گی کہ