خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 664 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 664

خطبات طاہر جلد 17 664 خطبہ جمعہ 25 ستمبر 1998ء اس ترجمہ میں ان آیات کے مرکزی بنیادی امور بیان فرما دئے گئے ہیں اور ان کی تفصیل اب میں آنحضرت صلی یا پی ایم کے الفاظ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔حضرت عبد اللہ بن عمر ورضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صل للہ ایم یوں دعا کیا کرتے تھے کہ : ”اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسے دل سے جو خشوع سے نا آشنا ہو، ایسی دعا سے جو سنی نہیں جاتی ، ایسے نفس سے جو سیر نہیں ہوتا اور ایسے علم سے جو نفع رساں نہیں۔میں ان چاروں چیزوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ ،، (جامع الترمذی، کتاب الدعوات عن رسول الله ﷺ، باب دعاء اللهم انی اعوذبك۔۔- حدیث نمبر : 3482) اب یہ روایت تو اس لحاظ سے بہت قابل غور ہے کہ آنحضرت صلی سیستم جن کی ساری زندگی خشوع و خضوع میں صرف ہوئی آپ صلی ا یہ تم یہ دعا کیوں مانگا کرتے تھے، اللہ کی پناہ کیوں چاہتے تھے؟ اس میں ایک سبق تو یہ ہے کہ ساری عمر پناہ چاہی اسی لئے ساری عمر آپ سالی تا پریتم کی خشوع و خضوع ہی میں صرف ہوئی یعنی خشوع و خضوع کی توفیق ہر لمحہ اللہ کی طرف سے ملتی ہے اس لئے ہر لمحہ اللہ ہی سے پناہ چاہنی چاہئے۔پس ایک تو اس حدیث میں یہ نمایاں بات مجھے محسوس ہوئی ہے لیکن دوسری بات جو قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ ایسے دل سے جو خشوع سے نا آشنا ہو، وہ دل جس کو خشوع کا علم ہی نہیں اس سے پناہ چاہتا ہوں۔تو آنحضرت مسی یہ کہ ہم تو اپنے لئے ایسے دل کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔جو خشوع سے نا آشنا ہو۔خشوع تو قرآن کریم سے ثابت ہے کہ بہت سے ایسے لوگوں کو جن کو کبھی بھی خدا کی خشیت میں رونا نہیں آتا ان کو بھی کبھی کبھی نصیب ہو جاتا ہے تو ایسے دلوں سے جو خشوع سے نا آشنا ہوں ان سے پناہ کیوں مانگی گئی ہے۔فی الحقیقت اس میں آئندہ زمانہ میں آنے والے ایسے مادہ پرست دلوں کا ذکر ہے جن کے اوپر کبھی بھی خدا تعالیٰ کی خشیت سے، اس کے خشوع سے رقت طاری نہیں ہوتی اور آج یہ مضمون ہمیں تمام دنیا میں پھیلا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔بھاری اکثریت انسانوں کی ہے جو اور باتوں پر تو رو پڑتے ہیں مگر اللہ کے خشوع سے کبھی نہیں روتے۔امریکہ ہو یا چین یا جاپان یا یورپ کی بڑی بڑی طاقتیں ان کے سربراہ، ان کے سیاستدانوں سب پر یہ آیت چسپاں ہوتی ہے۔آپ نے کبھی بھی ان کو اللہ کے ذکر سے روتے نہیں دیکھا ہوگا۔آنحضور صلی ا یلتم فرمارہے ہیں وہ اس سے نا آشنا ہیں ان