خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 650 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 650

خطبات طاہر جلد 17 650 خطبہ جمعہ 18 ستمبر 1998ء اب یہ دو حالتیں ہیں جو عموماً انسان بھول جاتا ہے۔اگر انسان خدا کی امانت کو واپس کرنا چاہے تو اس وقت جب وہ خدا واپس لے لیتا ہے اس وقت اس کی آزمائش ہوتی ہے۔کہنے کو تو سب کہہ سکتے ہیں کہ اللہ کی امانت ہے۔جان دی دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا (میرزا اسد اللہ خاں غالب) کہہ تو دیتے ہیں مگر جب وہ جان طلب کرتا ہے اس وقت جان پیش کرنا یہ ہے امانت کولوٹانا۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیکھیں کتنی احتیاط سے دونوں پہلو بیک وقت بیان فرما دئے۔” جو خداوند منعم نے ہمیں دیا ہے ہم اس کو واپس دیں یاوا پس دینے کے لئے تیار ہو جائیں ہماری جان اس کی امانت ہے۔“ پس وہی بات ہے کہ جان اسی کی دی ہوئی ہے اسی کی امانت ہے مگر جب وہ واپس مانگے تو پھر دے بھی دو اس کو محض زبانی جمع خرچ کہ ہم ہر وقت جان فدا کرنے پر تیار بیٹھے ہیں کوئی بھی حقیقت نہیں رکھتا۔اگر طلب کرنے پر وہ دی نہ جائے۔یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اکثر جوامانتیں ہیں ان کو طلب نہیں کرتا اور جتنا بھی کسی کو توفیق ہے جس حد تک وہ واپسی شروع کر دیتا ہے اسی حد تک اللہ تعالیٰ بھی راضی رہتا ہے لیکن بعض وقت ایسے آتے ہیں جب طلب کرتا ہے اور جب طلب کرتا ہے تو اپنی جانیں لازماً خدا کے حضور پیش کرنی ہیں۔ایسے اوقات مثلاً خدا کی خاطر جہاد میں جب قتال کا وقت آئے اس وقت بھی پیش آیا کرتے ہیں۔جب خدا طلب کر لیتا ہے تو پھر کسی مومن کا یہ حق نہیں رہتا کہ طلب کے بعد پھر اسے اپنی چیز سمجھے پھر اسے لازماً لوٹانا پڑتا ہے اور اس لوٹانے کے وقت بھی لوٹانے کے لئے تیاری، ذہنی تیاری اور قلبی تیاری ہوتی ہے۔لوٹانے کا یہ مطلب نہیں کہ جان کو خطرہ میں ڈال کر خود ہی پھینک دے۔یہ امانت لوٹانا نہیں ہے خدا تعالیٰ نے امانت کو جب طلب کیا ہے تو کسی مقصد کے لئے طلب کرتا ہے۔اگر وہ مقصد پورا نہ ہو تو بغیر مقصد پورا کئے امانت واپس کرنا مدعا نہیں ہے ورنہ تو پھر خودکشی ایک بہت بڑا نیک عمل بن جاتی ہے۔کوئی انسان کہتا کہ یہ اللہ کی امانت ہے آج میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ یہ امانت واپس کر دوں گا مگر نیک عمل چھوڑ کے بدترین گناہ بن جاتی ہے کیونکہ امانت کی واپسی بعض شرائط کے ساتھ مشروط ہے یعنی امانت خدا تعالیٰ نے بے سبب نہیں دی بعض عظیم مقاصد