خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 649 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 649

خطبات طاہر جلد 17 649 خطبہ جمعہ 18 ستمبر 1998ء توقع رکھنا کہ خدا ہر قدم پر ان کو بتائے گا، بول کر بتائے گا کہ یہ کام نہیں کرنا، یہ کام نہیں کرنا ، یہ توقع ایک لحاظ سے پوری بھی ہو چکی ہے اور غلط بھی ہے۔پوری اس لئے ہو چکی کہ آنحضرت سی پیہم کو بول کر بتا دیا اور سارا قرآن، سارا کلام الہی اس بات پر گواہ ہے کہ ہمارے سامنے ہر چیز کھول کر باتوں میں رکھ دی ہے کوئی ایک بات بھی ایسی نہیں جس میں محض اشاروں پر احتیاج ہومگر فرد واحد کے لئے وہ کلام نہیں اترتا۔پس ان معنوں میں خاموشی بھی خدا تعالیٰ کی ایک شان ہے۔جہاں بولتا ہے وہاں خاموش بھی رہتا ہے اور اس خاموشی میں اپنے بندوں سے توقع رکھتا ہے کہ وہ مڑ مڑ کے دیکھتے رہیں جیسے بچے دیکھتے ہیں اور وہ اگر خدا کی نگاہ پر اپنی نظریں رکھیں تو ان کے لئے رستہ تشکیل دینا کوئی مشکل کام نہیں رہتا، رستے کی ٹھوکروں سے بچنا کوئی مشکل کام نہیں رہتا۔تو اس طرح جماعت احمدیہ کو اللہ پر نظر رکھتے ہوئے اپنے قدم آگے بڑھانے چاہئیں اور جب وہ نظر رکھیں گے تو جیسا کہ میں نے مثال بیان کی ہے وہ لازماً احتیاط کریں گے اور جب نظر رکھیں گے تو ان کی پریشانی خدا بھی دیکھ رہا ہوگا۔ان کی تکلیف کا احساس خدا تعالیٰ کو بھی دکھائی دے رہا ہوگا۔تو بعض دفعہ خاموشی دونوں طرف رہتی ہے اور دونوں طرف وہ کلام بن جایا کرتی ہے۔خدا کے بندے بھی اونچی زبان میں دعا کریں نہ کریں جب وہ اپنے رب کی طرف خوف کی حالت میں دیکھتے ہیں اور طمع کی حالت میں دیکھتے ہیں تو ان کی خوف اور طمع کی حالت دعائیں بن جاتی ہیں۔پس اس طرح اگر آپ کو یاد نہ بھی رہا ہو کہ ہمیں ہمیشہ اپنے لئے دعا کرنی چاہئے اور ہر انسان کو یہ یاد بھی نہیں رہتا لیکن اگر اسلوب یہ ہو جو میں نے بیان کیا ہے تو پھر منہ سے بولنے کی بھی ضرورت نہیں اللہ ہر حال میں نگاہ رکھتا ہے اور اپنے پیارے بندوں کے ساتھ پیار کا سلوک فرماتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام امانت ہی کے مضمون میں ڈاکٹر جگن ناتھ صاحب جموں کے نام اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں : ”ہم اسی وقت کچے بندے ٹھہر سکتے ہیں کہ جو خداوند منعم نے ہمیں دیا ہے ہم اس کو واپس دیں یا واپس دینے کے لئے تیار ہو جا ئیں۔“ 66 آسمانی فیصلہ، روحانی خزائن جلد 4 صفحہ :338 حاشیہ)