خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 648 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 648

خطبات طاہر جلد 17 648 خطبہ جمعہ 18 ستمبر 1998ء اور ان کے پوشیدہ حملوں سے متنبہ رہنا اور اسی کے مقابل پر حقوق العباد کا بھی لحاظ رکھنا یہ وہ طریق ہے کہ انسان کی تمام روحانی خوبصورتی اس سے وابستہ ہے۔“ 66 (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ: 210,209) اب یہ عبارت ایک ایسی عبارت ہے اگر اس کے ایک ایک لفظ کو ٹھہر ٹھہر کر غور سے پڑھا جائے اور اسے کھولا جائے تو جہاں یہ دکھائی دیتا ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے تقویٰ کی باریک راہوں کا کوئی بھی پہلو باقی نہیں رہنے دیا اس کو کلیۂ گھیر لیا ہے، ہر امکان کو پیش نظر رکھا ہے اور ہر احتمال کو پیش نظر رکھا ہے وہاں مضمون مشکل بھی بہت ہو گیا ہے یعنی جتنا آپ اس کو سمجھتے جائیں گے اتنا ہی تقویٰ کی باریک راہوں پر قدم مارنا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جائے گا۔پس جماعت احمدیہ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس بنیادی تعلیم کو پیش نظر رکھتے ہوئے ، جو بنیادی بھی ہے اور تفصیلی بھی ہے، اپنے خط و خال کو درست کرتے رہنا چاہئے اور جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے پہلے بھی میں بیان کر چکا ہوں کہ حقیقت میں یہ کام دعا کی مدد کے بغیر ممکن ہی نہیں اور جو شخص خدا کی خاطر ایک کام شروع کرتا ہے وہ بار بار اسی کی طرف دیکھتا ہے اور اسی سے ہر قدم پر ، ہر لمحہ مدد چاہتا ہے۔پس جتنا بھی مشکل مضمون ہوا گر آپ سفر شروع کر دیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف التجاء کی نظروں سے راہنمائی چاہتے ہوئے دیکھتے رہیں تو آپ کا رستہ آسان ہو جائے گا۔اگر بچے ماں باپ کے آگے آگے بھاگ رہے ہوں تو بعض بچے اس طرح بھاگتے ہیں کہ وہ مڑ کے دیکھتے بھی نہیں کہ ماں باپ ان کو کسی خاص سمت سے روکنا چاہتے ہیں یا خاص طرز پہ چلانا چاہتے ہیں، وہ ٹھو کر کھا جاتے ہیں مگر بعض بچے بڑے محتاط ہوتے ہیں اور مڑ مڑ کے ماں باپ کی نظریں دیکھتے رہتے ہیں۔اگر وہ بولیں نہ بھی تب بھی ان کی نظریں بتادیتی ہیں کہ اتنا تیز نہ دوڑو۔اگر وہ سمجھائیں نہ بھی تب بھی ان کو ماں باپ کا عندیہ معلوم ہو جاتا ہے کہ اس طرز پر قدم رکھو، اس طرز پر نہ رکھو اور ایسے بچے پھر ٹھوکروں سے محفوظ رہتے ہیں۔اب اللہ تعالیٰ کا ہر موقع پر کلام کرنا تو خاص بندوں کے لئے ہے جیسا کہ بعض انبیاء کے حالات میں معلوم ہوتا ہے جیسا کہ حضرت نوح کی کشتی خدا کی نظروں کے سامنے چل رہی تھی اور ہر لمحہ اس کی نگرانی میں تھی تو انبیاء علیھم السلام کو چھوڑ کر وہ عامتہ الناس جو تقویٰ کا سفر شروع کرتے ہیں ان کا یہ