خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 647
خطبات طاہر جلد 17 647 خطبہ جمعہ 18 ستمبر 1998ء اب اس عبارت میں تو زندگی کا ہر مشغلہ شامل ہو جاتا ہے کیونکہ تمام قوی ، تمام اعضاء، جان، مال ، عزت ان سب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس جملہ میں سمیٹ لیا ہے۔تو ساری زندگی کے مشاغل اسی احتیاط کے پابند ہو جاتے ہیں۔حتی الوسع اپنی بپابندی تقویٰ بہت احتیاط سے اپنے اپنے محل پر استعمال کرتے رہتے ہیں۔اب ہر ایک کے تقویٰ کا معیار الگ الگ ہے تو حتی الوسع اپنی بپابندی تقوی، جتنا تقویٰ خدا تعالیٰ نے کسی کو عطا فرمایا ہے یا وہ اپنے تقویٰ کو خدا تعالیٰ کی نظر میں ہمیشہ سامنے رکھتا ہے اور اس تقویٰ میں وسعت ہوتی چلی جاتی ہے اس وسعت کی انتہا تک جس حد تک بھی ممکن ہے وہ تمام قومی کو اس پابندی پر مجبور کرتے ہیں۔”انسان کی تمام روحانی خوبصورتی تقویٰ کی تمام باریک راہوں پر قدم مارنا ہے۔“ یہ مضمون گزشتہ خطبہ میں بھی میں نے بیان کیا تھا۔تقویٰ کی باریک راہوں سے متعلق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے مختلف انداز مختلف سمتوں سے ہمیں توجہ دلائی ہے تا کہ یہ مضمون اپنی گہرائی کے ساتھ سمجھ آسکے۔تقویٰ کی باریک راہیں روحانی خوبصورتی کے لطیف نقوش اور خوشنما خط و خال ہیں۔“ اب باریک راہیں اور لطیف نقوش ان دونوں کا باہمی جوڑ ہے۔جتنازیادہ آپ تقویٰ کی باریک راہوں پر نظر رکھیں گے اتنا ہی زیادہ آپ کے روحانی خط و خال حسین اور حسین تر ہوتے چلے جائیں گے۔جیسے ایک بہت ہی خوبصورت وجود کے چہرہ کے باریک ترین اعضاء بھی ، باریک ترین جلد کا ابھار اور جلد کا جھکنا اور ان کے خم ، یہ ساری چیزیں اگر آپ کسی خوبصورت چہرہ کو دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ بہت ہی لطافت کے ساتھ تشکیل دئے گئے ہیں اور جتنا تقویٰ لطیف ہوگا اتنا ہی روحانی خط و خال اسی طرح لطافت کے ساتھ تشکیل دئے جائیں گے۔یہ مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرما رہے ہیں۔پھر فرماتے ہیں : اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی امانتوں اور ایمانی عہدوں کی حتی الوسع رعایت کرنا اور سر سے پیر تک جتنے قومی اور اعضاء ہیں جن میں ظاہری طور پر آنکھیں اور کان اور ہاتھ اور پیر اور دوسرے اعضاء ہیں اور باطنی طور پر دل اور دوسری قوتیں اور اخلاق ہیں ان کو جہاں تک طاقت ہو ٹھیک ٹھیک محل ضرورت پر استعمال کرنا اور نا جائز مواضع سے روکنا