خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 642
خطبات طاہر جلد 17 642 خطبہ جمعہ 11 ستمبر 1998ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون پر جو روشنی ڈالی ہے میں ایک دو اقتباس اس کے پڑھ کر سناتا ہوں باقی یہ مضمون ابھی ختم نہیں ہو سکا اس لئے وہ اگلی آیات کا مضمون شروع نہیں ہوسکتا۔فرمایا: پھر چہارم درجہ کے بعد پانچواں درجہ وجود روحانی کا وہ ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا ہے وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَنتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رُعُونَ (المومنون : 9) ” وہ لوگ یعنی ترجمہ اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں ” یعنی پانچویں درجہ کے مومن جو چوتھے درجہ سے بڑھ گئے یہ یعنی کے تابع ہیں تشریحی اور تفسیری ترجمہ ہے الفاظ نہیں ہیں ترجمہ کے یعنی پانچویں درجہ کے مومن جو چوتھے درجہ سے بڑھ گئے ہیں وہ ہیں جو صرف اپنے نفس میں یہی کمال نہیں رکھتے جو نفس اتارہ کی شہوات پر غالب آگئے ہیں اور اس کے جذبات پر ان کو فتح عظیم حاصل ہو گئی ہے بلکہ وہ حتی الوسع خدا اور اس کی مخلوق کی تمام امانتوں اور تمام عہدوں کے ہر ایک پہلو کا لحاظ رکھ کر تقویٰ کی باریک راہوں پر قدم مارنے کی کوشش کرتے ہیں۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ: 207) اب یہ تقویٰ کی باریک راہوں پر قدم مارنے کا ایک نیا مضمون ہے جو مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام بیان فرما رہے ہیں۔عام طور پر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ شہوات نفسانی سے بچنے کا نام ہی تقویٰ ہے حالانکہ شہوات نفسانی سے بچنے کے بعد انسان اس قابل ہو جاتا ہے کہ تقویٰ کا مضمون سیکھے یعنی اس کی باریک راہوں پر چلنا یہ شہوات سے بچنے کے بعد کی بات ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جو اپنے غصوں ، اپنی شہوات کے مغلوب رہتے ہیں وہ تقویٰ سیکھ ہی نہیں سکتے۔سردست میں اسی بات پر اکتفا کرتا ہوں باقی مضمون کو انشاء اللہ بعد میں بیان کروں گا کہ اپنے نفسانی جذبات پر غالب آنا یہ تقویٰ نہیں ہے، یہ تقویٰ کی تیاری ہے کیونکہ وہ لوگ جو نفسانی جذبات پر غالب نہیں آ سکتے مثلاً غصہ ان پر غلبہ پالیتا ہے، منہ سے بے ہودہ باتیں نکل پڑتی ہیں یا دوسروں کے ساتھ معاملہ میں بھی جلد بازی سے کام لیتے ہیں ان چیزوں سے بچنے کا نام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نزدیک تقویٰ نہیں ہے ان سے بچنے کے بعد تقویٰ کا سفر شروع ہوگا۔