خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 641 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 641

خطبات طاہر جلد 17 641 خطبہ جمعہ 11 ستمبر 1998ء وہ واقعۂ گھٹیا ہے۔ان امور کا فیصلہ کرنا ان لوگوں کا کام ہے جن تک کسی معاملہ کی تفصیل پہنچی ہو۔جہاں تک سوسائٹی کا تعلق ہے اس میں احتیاط لازم ہے ورنہ ہر شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ مسلمان رہا ہی نہیں اس لئے میں اس کو حقیر سمجھتا ہوں تو ہر شخص کے اسلام کے فتوے جاری ہو جائیں گے اور عملاً ساری سوسائٹی غیر مسلم ہو جائے گی۔پس اس بات کو خاص طور پر ذہن نشین رکھ لیں کہ حقیر سمجھنا سوسائٹی میں عام عادت کے طور پر اپنا نا ظلم ہے۔اگر آپ اس کو عادت کے طور پر اپنا ئیں گے تو آپ کے اندر بھی تکبر پیدا ہوگا اور جس شخص کو آپ ذلیل سمجھ رہے ہیں ہو سکتا ہے وہ اللہ کی نظر میں ذلیل نہ ہو اور اس طرح آپ خود اللہ کی نظر میں ذلیل ہو جائیں گے۔تو یہ ساری باریک راہیں ہیں تقویٰ کی۔جب رسول اللہ صلی یہ تم فرماتے ہیں تقویٰ یہاں پر ہے تو واضح ہے کہ یہ ساری تقویٰ کی باریک راہیں ہیں جن کو ہم نے حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی ہی ہم سے سیکھنا ہے اور ان کو باریکی سے نہیں سیکھیں گے تو تقویٰ یہاں پر ہے کے مضمون کا حق ادا ہی نہیں ہوسکتا کیونکہ آنحضرت صلیم تقومی کی باریک ترین راہوں پر سے گزرے ہیں۔جب آپ سی ایم سے تقوی سیکھنا ہے تو تقویٰ کی لطافتیں سیکھنا لا زم ہے اس کے بغیر ہرگز یہ تقویٰ جو آپ سیکھ رہے ہیں وہ کاملہ رسول اللہ صلی سلیم کی غلامی میں سیکھا ہوا تقویٰ نہیں ہوگا بلکہ باریک رستے ہیں جن پر چلنا پڑتا ہے اور میں تو یقین رکھتا ہوں کہ پل صراط دراصل اسی بات کا مظہر ہے ایک اتنا باریک تارکہ جس کے اوپر چلنا ناممکن دکھائی دیتا ہے ایک طرف جنت ہے ایک طرف جہنم کے شعلے ہیں۔اور وہ لوگ جو خدا کے نزدیک تقویٰ کی باریک راہوں پر چلتے ہیں ان کو کوئی خوف نہیں تو بار یک تار سے مراد یہ نہیں ہے کہ سچ سچ کا کوئی تار کھینچا جائے گا، اس پر چلنے کا حکم ہوگا۔مراد یہ ہے کہ اس زندگی میں ہی آپ نے اپنا پل صراط بنانا ہے۔اگر آپ تقویٰ کی باریک راہوں کو سیکھیں گے، غور کریں گے تو رفتہ رفتہ آپ کو احتیاط سے چلنے کی عادت پڑ جائے گی۔جو قدم اٹھا ئیں گے پھونک کر اٹھا ئیں گے اور اس صورت میں اگر گرے بھی تو جنت کی طرف گریں گے ، جہنم کی طرف نہیں گریں گے۔پس حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی ای ایم نے جو تقویٰ کی باریک را ہیں ہمیں سکھائی ہیں ان پر عمل کئے بغیر ہماری سوسائٹی سدھر سکتی ہی نہیں۔