خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 640
خطبات طاہر جلد 17 640 خطبہ جمعہ 11 ستمبر 1998ء سوسائٹی میں اس کی عزت اور وقار کم ہو جائیں۔اگر اس کی سادگی کی بات کرتا ہے تو پیار اور محبت سے اس رنگ میں کرتا ہے کہ اس شخص پر اس کی سادگی پر بھی پیار آتا ہے مگر رسوائی نہیں ہوتی اس میں، تو رسوا نہ کرنے سے اس مضمون کو پوری طرح کھول دیا گیا۔چنانچہ اس کے برعکس یہ بھی فرمایا: ”ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کی عزت فرض ہے ، مال اور خون حرام ہے ، تقویٰ یہاں پر ہے۔جب حضور اکرم صلی ا یہ تم نے فرما یا تقویٰ یہاں پر ہے تو اپنے دل پر ہاتھ لگایا ( یعنی دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انگلی چھاتی پر لگائی ) تقویٰ یہاں پر ہے۔“ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ تین دفعہ آپ صلی ایلیم نے بار بار دہرایا کہ تقویٰ یہاں پر ہے، تقویٰ یہاں پر ہے۔مطلب ہے کہ تقویٰ کے گر سیکھنے ہیں تو مجھ سے سیکھو۔(صحیح مسلم ، کتاب البر تو والصلة والاداب، باب تحریم ظلم المسلم، حدیث نمبر :6541) 66 کسی انسان کے لئے اتنا شر ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔“ (سنن الترمذی، ابواب البر والصلة، باب ماجاء فى شفقة المسلم على المسلم ، حدیث نمبر : 1927) اب اس کو بھی امانت کے تعلق میں بیان فرمایا گیا ہے۔یہ ساری امانتیں ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے مومن بندوں پر اور ان کا فرض ہے کہ ان تمام امانتوں کے حق ادا کریں۔اپنے مسلمان بھائی کو حقیر نہ سمجھے۔اب اس میں مسلمان بھائی ہونا بھی تو لازم ہے۔بعض لوگ حرکتیں ایسی کرتے ہیں جو ذلیل اور کمینی حرکتیں ہیں اگر انہیں کہا جائے یہ تو کمینی بات ہے تم ذلیل حرکت کر رہے ہو تو یہ اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ تم اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھ رہے ہو کیونکہ جو مسلمان بھائی ہو وہ ایسی بات کر سکتا ہی نہیں۔یہ پہلو بھی تو ہے جس پر غور کی ضرورت ہے۔رسول اللہ صلی ہم نے یہ نہیں فرمایا کہ کسی کو حقیر نہ سمجھے۔حقیر کو تو حقیر ہی سمجھنا پڑے گا۔گندی فطرت والا انسان ہے کیسے آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ گندی فطرت کا نہیں ہے مگر مسلمان بھائی، اس سے رسول اللہ صلی الی تم ہرگز یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ کسی قسم کی کوئی گھٹیا بات کرے۔پس مسلمان بھائی کو حقیر نہ سمجھو، جو مسلمان بھائی کی تعریف ہی میں نہیں آتا اس کا مضمون الگ ہے لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں تو معاشرے میں بہت سا فساد پھیل سکتا ہے یعنی آپ کسی کے متعلق کہیں کہ وہ گھٹیا نظر آتا ہے اور دوسرا کہے کہ تم نے اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھا ہے۔اب وہ یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ میرا فتویٰ درست ہے اور