خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 632 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 632

خطبات طاہر جلد 17 632 خطبہ جمعہ 11 ستمبر 1998ء کے پاس کچھ بھی نہیں ہوگا۔یہ اس نے ٹھیکہ کی شرط کر لی۔اب یہ اللہ کے سوا کون اس کے دل میں ڈال سکتا تھا اور ٹھیکہ کی جو نصف رقم حضرت خلیفہ اسیح الاول کے ہاتھ آئی ایک لاکھ پچانوے ہزار تھی، کم نہ زیادہ۔یہ اللہ تعالیٰ کے بتانے کے طریقے ہیں۔اے میرے بندے ! تو نے مجھ پر توکل کیا تھا میں تمہیں دکھا رہا ہوں کہ اس طرح تو کل کرنے والوں کو میں جزاء دیا کرتا ہوں اور اس کو کہتے ہیں اجر عظیم۔اب دیکھیں دوبارہ پھر اگلے سال اس کو ہی ٹھیکہ ملا اور اس شرط کے ساتھ۔جب اس نے وہ رقم جو تقریباً اتنی ہی یا اس سے زیادہ تھی حضرت خلیفہ اسی الاول کو بھجوانے کے لئے ان کو لکھا تو آپ نے کہا یہ تو میری نہیں ہے۔میری جتنی تھی وہ مجھے مل گئی اور مجھے کوئی غرض نہیں یہ بقیہ منافع اپنے پاس ہی رکھیں۔( مرقات الیقین فی حیات نور الدین مرتبه اکبر شاہ خان نجیب آبادی صفحه :186،185) یہ سودے ہیں جو امانت کے سودے ہیں، دیانت کے سودے ہیں ، اللہ کے عہدوں کے پاس رکھنے والوں کے سودے ہیں۔اس پر اللہ کیسے اپنے وعدوں میں خیانت کر سکتا ہے، اپنے وعدوں سے پھر سکتا ہے۔فرمایا وَ اَنَّ اللهَ عِنْدَةٌ أَجْرٌ عَظِيمٌ تو یہ لوگ سن لیں اور یا درکھیں کہ اگر اولا د اور ا موال کی پرواہ نہیں کریں گے اور خالصہ اللہ کے لئے دیانت اور امانت پر قائم رہیں گے تو اللہ بہت بڑے اجر والا ہے اور وہ اجر جو آخرت میں ملنا ہے وہ اس کے علاوہ ہے، اس کا حساب کتاب ہی کوئی نہیں۔یہ دنیا کے اجر کی باتیں کر رہا ہوں لیکن بہت سے لوگوں سے یہ سلوک دکھائی نہیں دیتا۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ غلط بات ہے۔جن لوگوں کے ساتھ یہ سلوک نہ ہورہا ہو وہ اپنے دل کی چھان بین کریں، اپنی نیتوں کو کھنگالیں کیونکہ لازماً اللہ کی بات درست ہے اور ان کا جائزہ غلط ہے۔میرے علم میں ایسے احمدی دوست ہیں جو بعینہ اس نصیحت پر عمل کرتے ہیں اور ان کے ساتھ اللہ کا بالکل یہی معاملہ ہے کبھی بھی ضرورت کے وقت اللہ تعالیٰ نے ان سے بے اعتنائی نہیں کی ، ہمیشہ ان کی ضرورتیں پوری ہوئی ہیں اور ہمیشہ غیب سے پوری ہوئی ہیں اور اسی رنگ میں پوری ہوئی ہیں کہ بعینہ جتنی ضرورت تھی اتنی ہی عطا کی گئی تا کہ ان کو معلوم ہو جائے کہ اللہ کی طرف سے عطا ہے۔تو یہی امانت کا مضمون ہے جس کو میں حضرت حذیفہ کی ایک روایت کے حوالہ سے بیان کر رہا تھا اور اس کا آخری حصہ رہ گیا تھا یعنی اس پر تبصرہ ، اب میں وہیں سے اس مضمون کو اٹھاتا ہوں۔حضرت حذیفہ یہ بیان کرتے ہیں ،