خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 631
خطبات طاہر جلد 17 631 خطبہ جمعہ 11 ستمبر 1998ء تو آج کل کے کروڑوں ہوگی۔اور آپ کی سادہ زندگی ، اپنی ذات پہ بالکل معمولی خرچ۔تو یہ بات اس سے قطعی طور پر ظاہر ہوتی ہے کہ آپ نے لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے کی خاطر محض اللہ کی رضا کے لئے قرض اٹھائے اور چونکہ نیت تھی کہ میں نے لازماً قرض ادا کرنا ہے اس لئے تو کل بھی ساتھ تھا۔اب یہ اجر عظیم کا قصہ سنئے۔جب راجہ نے آپ کو فارغ کر دیا اور آپ ریاست سے روانہ ہونے لگے تو آپ کے پاس اس وقت پانچ روپے تھے یا کتنے تھے ، بہت معمولی رقم تھی۔وہ آپ نے جو ایک لاکھ پچانوے ہزار کا قرض خواہ تھا اس کو ادا کر دئے۔مجھے یاد نہیں بعینہ پانچ سورتم تھی یا جتنی بھی تھی یا پانچ ہزار تھی وہ اس کو بھیجی تو اس نے کہلا کے بھیجا کہ تم یہ کیا کر رہے ہو اس طرح قرض ادا ہو گا ایک لاکھ پچانوے ہزار !؟ آپ نے فرمایا اس وقت میرے پاس یہ تھا اور دیانت داری کا تقاضا تھا کہ جو ہے میں تمہیں دے دوں باقی تمہارا قرض ضرور ادا ہوگا یہ میرا وعدہ ہے۔چنانچہ جب آپ روانہ ہوئے تو اس وقت جو پاس تھا وہ اس کو دے دیا لیکن روانگی سے پہلے ایک ہندو بنیا آپ کو سمجھا رہا تھا کہ آپ کیا خدا والی باتیں کر رہے ہیں دُنیا میں خدا والوں کا گزارا نہیں ہوا کرتا ، یہ محض وہم ہے آپ کا ، کس مصیبت میں مبتلا ہو گئے ہیں لوگوں کو دے دے کر قرضے چڑھالئے ، برے حال اور اب حال یہ ہے کہ وہ جو بنیا اس وقت تھا جس نے بغیر سود کے پیسہ دیا مگر ویسے وہ سود خور بنیا تھا مگر حضرت خلیفۃ امسیح الاول کے احترام میں اس نے یہ رقم بغیر سود کے دی تھی وہ تو اب مطالبہ میں سختی کرے گا۔اس کے بیٹھے بیٹھے اس بنئے کا پیغام آیا جس نے اعتراض کیا تھا کہ آپ یہ کیا رقم بھیج رہے ہیں، کہ آپ جا رہے ہیں اگر کچھ اور ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں۔امین کی نیکی کا اتنا گہرا اثر ہوتا ہے کہ جس نے قرضہ لینا ہے وہ بھی احترام کرتا ہے۔اس پر وہ بنیا بولنے لگا دیکھو پاگل ہو گیا ہے۔میرا خیال تھا کہ یہ پکڑائے گا، جیل بھیجے گا وہ الٹا جانے سے پہلے کہہ رہا ہے کہ کچھ اور بھی لے لو مجھ سے اور بیٹھے بیٹھے ایک اور آدمی آگیا اس نے اپنی خدمات آپ کے سامنے پیش کر دیں لیکن حضرت خلیفہ اسیح الاول نے کسی سے استفادہ نہیں کیا۔مگر دیکھیں اللہ نے کیا انتظام کیا۔جب آپ چلے گئے تو ایک بہت بڑے لکڑی کے کاروبار کا جنگل کا ٹھیکہ تھا اس ٹھیکہ میں بہت بڑھ بڑھ کر بولیاں دینے والے موجود تھے۔راجہ نے یہ فیصلہ کیا کہ میں اس شخص کو یہ ٹھیکہ دوں گا جو نصف حصہ حکیم نورالدین کو دے گا۔وہ جانتا تھا کہ جتنی دیر رہے ہیں نہایت امانت سے اور دیانتداری سے رہے ہیں اس لئے اس غریب