خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 624
خطبات طاہر جلد 17 624 خطبہ جمعہ 4 ستمبر 1998ء نیند سے مراد غفلت کی نیند ہے۔ایک انسان جب اپنے حقوق سے غافل رہتا ہے اور غافل رہتا چلا جاتا ہے تو رفتہ رفتہ اس کے دل سے وہ امانت اٹھتی چلی جاتی ہے جو فطرت میں ودیعت ہوئی تھی۔اور اس کا معمولی سا اثر باقی رہ جائے گا۔(یعنی خدا نے جو چیز ودیعت کی ہے وہ اٹھ جائے گی لیکن معمولی سانشان سا ایک اثر باقی رہ جائے گا ) پھر وہ غفلت میں پڑا رہے گا۔“ ایک اور چیز ظاہر ہوگی جو بڑی دلچسپ ہے اور راز دان فطرت کے سوا کوئی اس بات کو بیان نہیں کر سکتا۔بظاہر مضمون ختم ہو گیا لیکن رسول اللہ صلی لالی تم نے اس مضمون کو جاری رکھا ہے۔” یہاں تک کہ جس طرح پاؤں پر چنگاری گرنے سے آبلہ سا بن جاتا ہے اور اس میں کچھ بھی نہیں ہوتا، معمولی سا پانی سا ہوتا ہے۔ویسا اثر امانت کا باقی رہ جائیگا۔“ اب اگر امانت مٹ گئی اور کچھ بھی نہ رہی تو یہ آبلہ چنگاری سے پڑنا اور اس کا اثر ، اس سے کیا مراد ہے؟ اس سے مراد یہ ہے کہ ایسے لوگ جب مزید غفلت کی حالت میں زندگی بسر کریں گے تو اپنے دل میں وہ امانت کو اس طرح پائیں گے جیسے آبلہ ہوتا ہے اور آبلے کے اندر گندے پانی کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔گویا یہ لوگ امین بنتے پھریں گے اپنے دلوں میں سمجھیں گے کہ ہم تو امین ہیں ہمارے دل میں امانت کا مواد موجود ہے اور اکثر لوگ جب غفلت کی انتہا کو پہنچتے ہیں تو بالکل یہی حال ان کا ہو جاتا ہے۔وہ دُنیا کو دکھانے کی خاطر یا اپنے مفادات کی خاطر ان کے سامنے امین بنتے ہیں جب کہ امانت کا مرکز ان کے دل کا وہ چھالا ہے جس میں گندے پانی کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔لوگ آپس میں ایک دوسرے سے لین دین کریں گے لیکن کوئی ایسا نہیں ہوگا جو امانت ادا کرے۔“ (صحيح البخاری، کتاب الرقاق، باب رفع الأمانة - حديث نمبر : 6497) اب جب لین دین کریں گے تو دکھانے کے لئے یہ بھی تو ضروری ہے کہ دوسروں پر اعتماد قائم کیا جائے اور ان کو دکھا یا جائے کہ ہم بڑے امین ہیں تب ہی تو لین دین کرتے ہیں اور جب یہ گندہ زمانہ آئے گا تو دل کے چھالے ہوں گے ، امانت ہوگی نہیں اور دل کے چھالے دکھانے کی خاطر ہوں گے۔جس طرح چھالا ابھر کر پھول جاتا ہے اس طرح یہ اپنے دل میں ایک امانت کا ابھرا ہوا مبالغہ آمیز تصور قائم کر لیں گے۔اور اس کو ظاہر کریں گے کہ گویا ہم امین ہیں۔لوگ آپس میں ایک دوسرے سے