خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 625
خطبات طاہر جلد 17 625 خطبہ جمعہ 4 ستمبر 1998ء لین دین کریں گے لیکن کوئی ایسا نہیں ہو گا جو امانت کا حق ادا کرے جب معاشرہ پہچان لے گا ان کو اور بار بار کے دھوکوں میں مبتلا ہو کر اچھی طرح جان لے گا کہ یہ معاشرہ سارا ہی گندہ ہو چکا ہے کوئی بھی لین دین کا حق ادا کرنے والا نہیں تو پھر وہ کیا باتیں کریں گے۔کہا جائے گا کہ فلاں قوم میں ایک امین شخص موجود ہے ڈھونڈو اس کو امین ہے کہاں اور جو پہلی حدیث میں نے بیان کی ہے اس کی رو سے امانت ان کو سوائے جماعت احمدیہ کے اور کہیں نہیں مل سکتی۔پس وہ لوگ جو امین نہیں ہیں اور محض جماعت کے رعب کی وجہ سے بنی نوع انسان کو دھوکا دیتے ہیں ان کو میں چن چن کر جماعت سے نکال رہا ہوں اور بعض لوگ کہتے ہیں بڑی سختی کر رہا ہے۔بالکل سختی نہیں کر رہا۔مجھے پتا ہے کہ ایک جماعت ہی تو ہے جو امین ہے اور اگر اس امین جماعت میں گندے لوگ اسی طرح گھسے رہیں تو پھر لوگوں کا کیا حال ہوگا جو اس لئے جماعت کی طرف رجوع کریں کہ ان کی امانت پر ان کو اعتماد ہو اور ان کا رہا سہا ، ان کی ساری پونجیاں پھر بھی ضائع ہوتی چلی جائیں۔پس یہ امتیاز ہے جماعت کا جس کو قائم رکھنے کی خاطر میں مجبور ہوں کہ جہاں دھوکا دینے والے بددیانتوں کا علم ہوتا ہے میں انہیں جماعت سے الگ کر دیتا ہوں اور اس معاملہ میں کوئی رعایت نہیں کرتا خواہ اپنا عزیز ہو یا غیر ہو۔کبھی زندگی بھر میں نے اس معاملہ میں رعایت نہیں کی ، نہ آئندہ انشاء اللہ کروں گا۔اب باقی جو امور ہیں وہ انشاء اللہ اگلے خطبہ میں بیان کئے جائیں گے۔