خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 622 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 622

خطبات طاہر جلد 17 622 خطبہ جمعہ 4 ستمبر 1998ء ساتھ مجڑ کر بیٹھنا ، ان کے قریب رہنا۔تم ایک دوسرے کا سہارا بنو گے ، ایک دوسرے کو غلط اور بداثرات سے بچاؤ گے اور ان کے عوام کو چھوڑ دینا، ان سے دور رہنا۔آپس میں چمٹ کر پھر دوسروں سے بھی میل جول میں بے تکلفی یا اندرونی طور پر دلوں کا باہم ملا دینا یہ بیک وقت نہیں چل سکتا۔فرمایا جب تم نیک لوگوں میں آپس میں اکٹھے بیٹھو گے تو غیروں سے سرسری سلام علیک ہوگی۔ان کے ساتھ تمہارے دل مل بھی نہیں سکتے پھر ، ناممکن ہے۔ان سے دور رہنا۔دور رہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عوام میں نکلنا ہی نہیں۔دلوں کو بچا کے رکھنا یہ مراد ہے۔ان کے اثرات سے دور رہنا۔اب وقت ابھی ہے تو ایک اور حدیث کو لیتا ہوں جو میں نے تین حصوں میں تقسیم کی ہے۔حَدَّثَنَا حُذَيْفَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ حَدِيثَيْن۔حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ لی لی تم نے ہمارے سامنے دو حدیثیں بیان کیں۔“ ایک ہی حدیث کے تسلسل میں یعنی ایک ہی روایت میں، ایک ہی کتاب میں چونکہ ان دونوں کا ذکر الگ الگ موجود ہے اور اس میں تھوڑا سا ابہام پیدا ہوتا ہے سننے والے کے لئے ، اس لئے اس روایت کو میں نے تین حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔پہلا وہ جو آنحضور صلی یہ تم نے پہلی بات بیان فرمائی تھی۔دوسراوہ جو رسول اللہ لا لا لی تم نے دوسری بات بیان فرمائی تھی۔تیسرا وہ جس میں حضرت حذیفہ کا اپنا تبصرہ ہے کہ پھر میں نے کیا کچھ دیکھا اور کس طرح میں نے ان باتوں کو پورا ہوتے دیکھا۔وہ حدیث نہیں ہے وہ اثر ہے۔ایک صحابی کی باتیں ہیں جنہوں نے حدیث پر تبصرہ کیا ہوا ہے۔اس پہلو سے اب آپ کے لئے یہ بات سمجھنا آسان ہو جائے گا۔حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی الی تم نے ہم سے دو حدیثیں بیان فرما ئیں ان میں سے ایک تو میں دیکھ چکا ہوں اور دوسری کا منتظر ہوں۔آپ نے ہم سے بیان فرمایا ( یہ اب حدیث شروع ہو جاتی ہے ) کہ امانت لوگوں کے دل کی جڑ یا تہہ میں اتری ہے۔“ اب اس کا کیا مطلب ہے؟ وہ جو میں نے پہلے ایک حدیث میں اشارہ کیا تھا وہ اسی طرف اشارہ تھا کہ امانت ایک ایسی چیز ہے جو انسانی فطرت میں ودیعت ہوئی ہے جس کے درخت کی جڑیں فطرت انسانی میں پیوست ہیں۔تو دل کی گہرائی میں اتری ہے۔اگر یہ امانت دل کی گہرائی میں نہ اتری ہوتی