خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 621
خطبات طاہر جلد 17 621 خطبہ جمعہ 4 ستمبر 1998ء اس وقت راوی نے کہا یا رسول اللہ صل للہ ایام اس وقت مجھے کیا کرنا چاہئے۔“ یعنی میں بھی تو ان لوگوں میں ہوں گا۔آپ صلی سیستم فرما رہے ہیں تیرا کیا حال ہوگا جب تو کمینے لوگوں میں جائے گا؟ تو سارا معاشرہ اگر اس قدر گندا ہو چکا ہوگا تو اس وقت میرا کیا حال ہوگا مجھے کیا کرنا چاہئے۔آپ صلہ ایم نے فرمایا اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا اور جس بات کے بارے میں تجھے اچھی طرح معلوم ہوا سے اختیار کر لینا اور جس چیز کے بارے میں علم نہ ہوا سے چھوڑ دینا۔“ (مسند احمد بن حنبل، مسند المكثرين من الصحابة مسند عبد الله بن عمر ، مسند نمبر : 6508) اب ایسے معاشرے میں غلط خبریں پھیلا کرتی ہیں اور اکثر غلط خبروں کے نتیجے میں معاشرہ اور بھی بگڑتا چلا جاتا ہے۔تو دیکھیں کتنی برمحل نصیحت فرمائی کہ بہت تم باتیں سنو گے،قسم قسم کی باتیں بیان کی جائیں گی۔جن کا تمہیں اچھی طرح علم ہو کہ یہ بات درست ہے صرف اس کو قبول کرنا اور باقی ساری باتیں رد کر دینا اور اپنے خاص تعلق رکھنے والوں سے چھٹے رہنا۔اب یہ نصیحت دیکھیں جماعت احمدیہ پر آج کل کس طرح صادق آ رہی ہے۔کتنی لطافت کے ساتھ اور کس قدر تفصیل کے ساتھ صادق آ رہی ہے۔اگر ایسے دور میں لوگ یعنی احمدی آپس میں ایک دوسرے کو چھٹے نہ رہیں ، ایک دوسرے سے تعلقات کو گہرا نہ کریں اور کسی قیمت پہ بھی ان تعلقات کو نہ ٹوٹنے دیں تو ان کی تربیت کی اس سے بہتر ضمانت نہیں ہوسکتی اور اگر وہ ایک دوسرے کو نہیں چمٹیں گے تو اس معاشرہ کا لازماً حصہ بن جائیں گے، اس کی طرف سر کتے چلے جائیں گے۔میں نے اپنے دوروں میں ہمیشہ دیکھا ہے کہ وہی خاندان اللہ تعالیٰ کے فضل سے بچے رہتے ہیں جن کو اپنے تعلقات کے قیام کے لئے دوسرے احمدیوں کی ضرورت پڑتی ہے۔بعض اپنے اعلیٰ عہدے چھوڑ کر ایک شہر سے دوسرے شہر میں اس لئے منتقل ہو جاتے ہیں اور مجھے لکھتے بھی ہیں کہ مالی نقصان ہوا ہے لیکن ہمیں کوئی پرواہ نہیں کیونکہ جس جگہ ہم تھے وہاں اکیلے تھے اور بچوں کو توفیق نہیں تھی کہ وہ ہر وقت گھر میں جڑے رہیں۔یہ کیسے ہوسکتا تھا ان کی بھی خواہشات ہیں۔پس ان کی خاطر ہم نے دُنیا پر لات ماری اور ایسی جگہ چلے گئے ہیں جہاں احمدی خاندان ملتے ہیں۔تو جڑنے کی خواہش اتنی زیادہ اور یہی نصیحت ہے کہ جب خال خال معاشرے میں اچھے لوگ نظر آئیں گے تو تم اپنے لوگوں کے