خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 615
خطبات طاہر جلد 17 615 خطبہ جمعہ 4 ستمبر 1998ء جنتوں کی ضمانت دے رہے ہوں جن کی ضمانت دینا آپ صلی للہ ایم کے اختیار میں نہ ہو ، یہ ہو ہی نہیں سکتا۔پس لازماً یہ حدیث قدسی ہے ان معنوں میں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی یا یہ ہم کو اجازت دی کہ یہ باتیں کہو اور ضامن ہو جاؤ۔پس رسول اللہ اللہ یہ تم کی ضمانت کے بعد اب غور سے سنیں کہ وہ کیا چھ باتیں ہیں۔جس وقت بات کرو سچ بولو۔“ اب یہ بات جو ہے یہ کتنی آسان اور کتنی مشکل ہے۔جس وقت بات کرو سچ بولو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں ہمیشہ بات کرنے سے پہلے رک کر سوچنا چاہئے کیونکہ انسان کا نفس بہت سی جھوٹ کی ملونی کر دیا کرتا ہے ، وہ ملاوٹ شامل ہوتی چلی جاتی ہے اور وہ سچ نہیں رہتا۔تو پہلی بات ہی کتنی آسان اور کتنی مشکل ہے۔رسول اللہ من سلیم نے فرمایا یہ کرو تو میں جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔مگر پانچ اور باتیں بھی ہیں لیکن حضرت اقدس محمد مصطفی سلینا ہی تم نے ایک شخص کو صرف سچ کی ہدایت کی تھی اور اس سے وعدہ لیا تھا کہ سچ بولو گے اور اس کا انجام یہ ہوا کہ اس کی ساری بدیاں دور ہوگئیں اور ساری نیکیاں اور حسنات اس کو عطا ہو گئیں۔تو ان میں سے ایک ایک آپ مالی پریتم کا فقرہ اس کا ایک ایک لفظ تو لنے کے لائق ہے یعنی دل میں اس کو تو لیں اور پھر دیکھیں اس کا کتنا وزن ہے۔” جب تم وعدہ کرتے ہو تو اسے پورا کرو۔“ اب دراصل یہ سچ بولنے ہی کے آگے شاخسانے ہیں۔بنیادی چیز حق ہے۔اگر کوئی انسان سچ بولنے والا ہو تو اس پر لازم ہے کہ جب وہ وعدہ کرے گا تو اسے پورا کرے گا۔وو ” جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو ادا کرو“ اب یہ ساری باتیں سچ ہی کے بطن سے پھوٹ رہی ہیں۔سچ بنیادی چیز ہے۔وہ شجرہ طیبہ ہے جس کو پھل لگ رہے ہیں اور آنحضرت سی تھا کہ تم ان پھلدار شاخوں کا ذکر فرما رہے ہیں۔اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو۔“ یہ بھی امانت ہے اور اللہ تعالیٰ نے کسی مقصد کے لئے عطا کی ہیں۔اس لئے امانت کا مضمون یہاں بھی اسی طرح چل رہا ہے۔پھر فرمایا: غض بصر کرو۔“