خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 616 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 616

خطبات طاہر جلد 17 616 خطبہ جمعہ 4 ستمبر 1998ء اب غض بصر کا جوعموماً ترجمہ سنتے ہیں یا کرتے ہیں یہ ہے کہ ہر وقت آنکھیں نیچی رکھ حالانکہ ہرگز یہ ترجمہ نہیں ہے۔غض بصر سے مراد یہ ہے کہ جب نظر اچٹتی ہوئی کسی ایسی جگہ پڑے جہاں وہ نفس میں غلط جذبات پیدا کر رہی ہو تو وہاں سے نظریں پھیر لیا کرو اور کسی چہرہ پر اس طرح نظر ڈال کے نہ دیکھو گویا اس کے حسن کی تلاش میں ہو، اس کے بدن کو اس طرح نظر ڈال کے نہ دیکھو کہ گویا اس کی مخفی زینت کے ابھار کو دیکھ رہے ہو اور اس سے اپنے دل کو ایک قسم کی شہوت کی تسکین دے رہے ہو۔اس کا نام ہے غض بصر اور شرمگاہوں کی حفاظت کے ساتھ اس کا گہرا تعلق ہے۔پھر چھٹی بات یہ فرمائی: اور اپنے ہاتھوں کو روک کر رکھا کرو۔“ (مسند احمد بن حنبل، باقی مسند الانصار حديث عبادة بن الصامت، مسند نمبر : 22757۔اب ہاتھوں کو روک کر رکھنے کا کیا مطلب ہے؟ پہلی پانچ باتیں تو بالکل صاف سمجھ آرہی ہیں اب ہاتھوں کو کیوں روکو۔دراصل جن لوگوں کو عادت ہو کہ وہ مغضوب الغضب ہوں اور بات سوچتے نہیں اور تولتے نہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ کسی حد تک ان کا حق ہے کسی کو بدنی سزا دینے کا ، کس حد تک نہیں ہے، ان کا ہاتھ از خود چلتا ہے۔اور بار بار نصیحت کے باوجود جن کو عادت ہو وہ عادت بدل نہیں سکتے۔وہ مائیں جن کو عادت ہے کوئی بچہ ذراسی حرکت کر رہا ہے تو ایک دم اس پر ہاتھ مار کے اس کو پہنچتی ہیں یا تھپڑ مار دیتی ہیں اور اس وقت ان کو یہ بھی احساس نہیں ہوتا کہ ملاقات میں بیٹھے ہوئے ہیں، کیا بداثر پڑ رہا ہے۔ایک بدتمیزی ہے کہ ملاقات کر رہے ہوں اور اپنے بچوں سے ایسی بدسلوکی کر رہے ہوں اور دماغ میں ان کے یہ ہوتا ہے کہ میرے سامنے یہ حرکت کر رہا ہے اور مجھ پر بداثر پڑے گا حالانکہ یہ بھی ایک دکھاوا ہے۔ایسے لوگوں کے متعلق جب میں گہری نظر سے دیکھتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ گھروں میں ان کو چھٹی دی ہوئی ہے ورنہ وہ باہر بھی ایسی حرکتیں نہ کریں۔گھروں میں یہ عادت ہے جو مرضی کرتے پھریں اور جب ان کی یہ عادت پختہ ہو چکی ہو، راسخ بن گئی جب وہ ملاقات کے وقت ظاہر ہوتی ہے تو اپنے نفس سے شرمندگی مٹانے کے لئے، اپنی بدی پر پردہ ڈالنے کے لئے اس پر سختی کرتے ہیں۔اور بعض دفعہ بچہ اس قدر گھور کے واپس دیکھتا ہے کہ تم وہی چیز ہو جو گھروں میں تو مجھے چھٹی دی ہوئی تھی کہ جو مرضی کرتا پھروں اور اب تم یہاں مجھ سے یہ سلوک کر رہے ہو۔ان کی آنکھوں میں اتنا قہر آتا ہے کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ کس طرح کوئی پلیٹ کے اپنی ماں کو اس قدر غصہ اور قہر سے دیکھ