خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 611
خطبات طاہر جلد 17 611 خطبہ جمعہ 4 ستمبر 1998ء یہاں مومنوں کی جو صفت بیان فرمائی گئی ہے یہ مطلب نہیں کہ غیر مومنوں کے لئے یہ طریق کار مفید نہیں ہوگا۔مومنوں کو بنی نوع انسان کے لئے نمونے کے طور پر پیش فرمایا گیا ہے۔اگر تم نمونہ پکڑنا چاہتے ہو، اگر امانتوں کا حق ادا کرنا چاہتے ہو، اگر اپنے عہدوں پر نگر ان رہنا چاہتے ہو تو پھر مومنوں سے سیکھو۔حضرت اقدس محمد مصطفی صل للہ اسلام کے غلاموں کو یہاں بطور نمونہ بنی نوع انسان کے لئے پیش فرمایا گیا ہے۔وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ : وہ نمازوں کی حفاظت کیوں کرتے ہیں، عہد کا اس سے کیا تعلق ہوا؟ دراصل سب سے پہلا عہد ان کا خدا سے ہوا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے کی خاطر اور اس کی امانت اس کو واپس کرنے کے لئے وہ نمازوں کی حفاظت اس طرح کرتے ہیں کہ نمازیں ان کی حفاظت کر رہی ہوتی ہیں۔یہاں جو يُحافظ کا صیغہ استعمال فرمایا گیا ہے یہ دوطرفہ عمل کرنے والا صیغہ ہے۔وہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں اور نمازیں ان کی حفاظت کرتی ہیں اور یہ امر واقعہ ہے کہ جتنا کوئی اپنی نمازوں کی حفاظت کرے گا اسی قدر نمازیں اس کی حفیظ بن جائیں گی، اس کی حفاظت کرنے والی ہو جائیں گی۔- أوليك في جَنْتِ مُكَرَمُونَ : یہی وہ لوگ ہیں جو اعزاز والی جنتوں میں داخل کئے جائیں گے۔اب قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت کا ایک یہ بھی نشان ہے کہ اوليك په حصر کرنے کے باوجو د صرف یہ نہیں فرمایا کہ یہی وہ لوگ ہیں جو جنت میں داخل کئے جائیں گے جبکہ قرآن کریم کی دوسری آیات بہت سے کمز ور لوگوں کے متعلق بھی خبر دیتی ہیں کہ بہت سی کمزوریوں کے باوجود وہ جنتوں میں داخل کئے جائیں گے مگر جنتوں کے ساتھ یہ شرط رکھ دی تمکرمون وہ اعزاز کے ساتھ جنتوں میں داخل کئے جائیں گے یعنی جنتیں مکرم نہیں مگر ان کی وجہ سے جنتیں بھی مکرم بن جاتی ہیں۔جس جگہ داخل ہونے والے معز زلوگ ہوں وہ جگہ بھی عزت والی بن جاتی ہے۔مکان کومکین سے شرف حاصل ہوا کرتا ہے۔پس اس پہلو سے میں اس کے دونوں معنے جائز سمجھتا ہوں کہ وہ اعزاز کے ساتھ ، بڑی عزت اور احترام کے ساتھ جنتوں میں داخل کئے جائیں گے۔ہر کس و ناکس جس کو جنت کا انعام ملے گا اس پر یہ مضمون صادق نہیں آتا لیکن جن کی صفات او پر بیان کی گئی ہیں ان پر یہ ضمون بعینہ صادق آتا ہے۔