خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 604 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 604

خطبات طاہر جلد 17 604 خطبہ جمعہ 28 اگست 1998ء ہے اور اسے سمجھانا پڑے گا کیونکہ میں نے بھی کچھ دیر غور کے بعد بات سمجھی کہ آنحضور صلی ایام کیا فرمانا چاہتے ہیں۔بات یہ ہے کہ جب آپ ایک دوسرے سے بات کر رہے ہوں تو اگر کوئی درستی کرنے والی تھی تو آپ کا فرض ہے کہ اس وقت درستی کر دیں کیونکہ جب آپ اس بات کو چھوڑ دیں گے تو وہ بات پھر آپ کی بات بنے گی ، جو اس کے دماغ میں باقی رہ جائے گی وہ اس کے پاس امانت ہے۔وہ اس بات کا دین دار ہے کہ وہ بات اتنی ہی بیان کرے جتنی آپ نے بیان کی تھی لیکن باتوں کے دوران بعض دفعہ انسان کو یاد آ جاتا ہے کہ یہ بات اس طرح نہیں اس طرح ہے، اس وقت لازم ہے کہ آپ وضاحت کر دیں کیونکہ جب مجلس ختم ہوئی یعنی جب ایک انسان نے وقتی طور پر یا مستقل طور پر اس شخص سے جدائی کر لی تو جو بات آخری اس کو کہی گئی ہے وہ اس بات کا حق دار ہے کہ اسی بات کو آپ کی طرف منسوب کرے۔کئی دفعہ ایسے دولوگ ہوتے ہیں جو بات کہہ دیتے ہیں اور الگ ہو جاتے ہیں اور پھر اس بات کے اندر کچھ خرابیاں نکلتی ہیں۔چنانچہ وہ شخص جب بات بیان کرتا ہے تو کہتے ہیں غلط کہہ رہا ہے میں نے یہ بات نہیں کہی تھی حالانکہ وہ خود غلط کہہ رہے ہوتے ہیں۔چونکہ انہوں نے وضاحت نہیں کی تھی اس لئے جس نے جو بات جیسی کبھی ، جیسی اسے سمجھائی گئی اتنی بات تو آپ کی طرف منسوب کرنے کا حق رکھتا ہے۔نہ اس سے زیادہ نہ کم۔اس ضمن میں بعض مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں اور وہ مسائل بھی ایسے ہیں جن میں آنحضرت صلی الی یوم نے نصیحت فرمائی ہے۔مثلاً جب آپ بات کر رہے ہیں تو بات کرنے کے وقت کون سا حق قائم ہوتا ہے، کس پر حق قائم ہوتا ہے۔؟ اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی ا یہ وہ فرماتے ہیں مجالس کا قیام امانت سے ہے سوائے تین مجالس کے۔اب یہ ایک بہت ہی اہم بات ہے۔جس پر عمل کرنے کی بے انتہا ضرورت ہے۔جب آپ ایک بات کہہ دیں وہ امانت ہوگئی تو اس کا یہ بھی تو مطلب ہے کہ ایک مجلس میں جو بات، جو منصوبہ بنایا جائے وہ بھی امانت ہو گئی یہ اس کا ایک طبعی نتیجہ نکلتا ہے۔اگر یہ درست ہے تو پھر کوئی کسی قسم کا منصوبہ بنارہا ہو جس نے وہ بات سنی ہو وہ امین ہو جائے گا اور وہ اسے آگے ظاہر کر ہی نہیں سکتا۔یہ خطرہ ہے۔آنحضرت صلہ تم دیکھیں کتنی باریکیوں سے ان خطرات پر آگاہ ہیں اور ہمیں نصیحت فرماتے ہیں کہ ان خطرات میں مبتلا نہیں ہونا۔سنن ابی داؤد کی روایت ہے: