خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 600 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 600

خطبات طاہر جلد 17 600 خطبہ جمعہ 28 اگست 1998ء بتا دیتا ہے۔کہتا ہے فلاں طرف سے فلاں جگہ جائیں اور آخر پر ہمارا گھر بھی اسی رستہ پر پڑتا ہے تو اگر ایک دو منٹ کے لئے وہاں بھی جائیں تو بہت اچھی بات ہے۔اب آپ دیکھیں بظاہر اچھی بات ہے لیکن جھوٹ بھی شامل ہے اس میں۔مُستشار نہیں رہا وہ ، مؤتمن نہیں رہا۔اس کا فرض ہے وہ یہ بتائے کہ اگر آپ جلدی پہنچنا چاہتے ہیں تو یہ رستہ ہے اور یہ اچھا رستہ ہے۔اگر آپ گھنٹہ اور لگانا چاہیں تو آدھے گھنٹے کے رستہ پر ہمارا گھر حاضر ہے۔چند منٹ کے لئے وہاں بھی آجائیں۔اور جب وہ چند منٹ کے لئے کہے گا تو نیت ہوگی کہ کم سے کم آدھا گھنٹہ اور لگ جائے۔اب یہ خفی باتیں ہیں یعنی سچا آدمی جان کے جھوٹ نہیں بول رہا۔جب وہ چند منٹ کہتا ہے تو یہ اثر ڈالنا چاہتا ہے کہ تھوڑی دیر میں کام ہو جائے گا لیکن اگر میں ہاں کہہ دوں تو فوراً اپنی بیوی کو فون کرے گا کہ جتنے رشتہ دار ہیں اکٹھے کرلو اور ہر قسم کے کھانے پکا لو، جو پھل ملتا ہے وہ مہیا کر لو تا کہ آج موقع ہے اس موقع سے فائدہ اٹھالیں اور وہ جو نصف گھنٹہ ہے وہ بھی میں احتیاط سے بتارہا ہوں۔یہ سارا معاملہ ایک گھنٹہ کا بن جاتا ہے اور یہ مجھے تجربے ہیں۔تو آنحضرت صلی لا یتیم کی نصیحتوں میں بہت گہرے راز ہیں۔اگر احتیاط سے ان نصیحتوں پر عمل کریں تو جب آپ سے مشورہ مانگا جائے اس وقت اپنی نیتوں کو نکال کر باہر پھینک دیں، اپنے مفادات کو نکال کر باہر پھینک دیں اور خالصہ وہ مشورہ دیں جو آپ کو امین ظاہر کر رہا ہو ، وہ ثابت کرے کہ آپ امانت کا حق ادا کرنا جانتے ہیں۔یه روز مرہ کی زندگی کی باتیں ہیں جو روزانہ آپ کو دیکھنی پڑیں گی۔اب شادی بیاہ کے معامالات ہیں ان میں مشورے ہوتے ہیں اور اکثر ان مشوروں میں دھوکا ہو جاتا ہے۔بعض لوگ تو عمداً دھوکا دیتے ہیں یعنی جو بات کسی لڑکی میں نہیں ہے وہ بتائیں گے۔جو عیب کسی لڑکے میں پایا جاتا ہے وہ نہیں بتا ئیں گے وغیرہ وغیرہ اور قول سدید سے ہٹ کر بات کرنے کے نتیجہ میں بہت سے دھو کے ہوتے ہیں اور اکثر ایسی شادیاں یا ٹوٹ جاتی ہیں یا ساری زندگی کے دکھوں پر منتج ہو جاتی ہیں۔اب یہ سمجھانے کی اس لئے ضرورت ہے کہ میں ملاقاتیں کرتا ہوں اللہ کے فضل کے ساتھ اور ان ملاقاتوں میں آئے دن یہ واسطہ پڑتا ہے۔اگر چہ میں اس وقت اُن بچیوں کو یا لڑکوں کو سمجھاتا ہوں کہ یہ ملاقاتیں اس غرض سے نہیں ہیں کہ میں تفصیل سے آپ کی یک طرفہ باتیں سنوں اور پھر کوئی فیصلہ کروں۔