خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 49 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 49

خطبات طاہر جلد 17 49 خطبہ جمعہ 16 جنوری 1998ء ( جبکہ ) حیلہ جو انسان تاویلوں پر تکیہ کرتے ہیں لیکن خدا کے نزدیک یہ تکیہ کوئی شے نہیں۔( اب اپنا حال بیان فرماتے ہیں) جب میں نے چھ ماہ روزے رکھے تھے تو ایک دفعہ ایک طائفہ انبیاء کا مجھے ملا ( کشف میں ) اور انہوں نے کہا کہ تو نے کیوں اپنے نفس کو اس قدر مشقت میں ڈالا ہوا ہے۔اس سے باہر نکل۔“ 66 اب اللہ نے نظر فرمائی اور ایک طائفہ انبیاء کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ملتا ہے اور لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نفسك (الشعراء: 4 ) کا مضمون بیان فرما رہا ہے۔یہ مضمون ہے جو عین قرآن کے مطابق ہے کہ تو نے اپنے نفس کو کیوں اس قدر مشقت میں ڈالا ہوا ہے اس سے باہر نکل۔اسی طرح جب انسان اپنے آپ کو خدا کے واسطے مشقت میں ڈالتا ہے تو خود ماں باپ 66 کی طرح رحم کر کے اسے کہتا ہے کہ تو کیوں مشقت میں پڑا ہوا ہے۔“ پس یہی نہیں کہ آپ اپنے نفس پر رحم کریں جو لوگ آپ اپنے نفس پر رحم نہیں کرتے ان پر اللہ رحم کرتا ہے اور لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ کی تکرار ہر جگہ انہیں معنوں میں پائی جاتی ہے۔پس اپنی حالت پر خود رحم نہ کریں یہ بڑی بے رحمی ہوگی۔اگر آپ اپنی حالت پر رحم کریں گے تو اس سے بڑی بے رحمی آپ اپنے آپ سے نہیں کر سکتے۔کوشش کریں کہ جس حد تک ہو آسانی اور سہولت کے ساتھ خدا تعالیٰ کے احکام پر عمل کریں مگر اپنے پر رحم کھانے کی وجہ سے نیکیوں سے محروم نہ ہوں۔ایسی صورت میں اللہ آپ پر رحم فرمائے گا اور بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔اب یہ دیکھیں اس کا دُنیاوی طور پر نقصان اور کیا ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: یہ لوگ ہیں کہ تکلف سے اپنے آپ کو مشقت سے محروم رکھتے ہیں اس لئے خدا ان کو دوسری مشقتوں میں ڈالتا ہے۔“ اور یہ بھی بہت ہی دائی حقیقت ہے۔ایسے لوگ جو مومنوں میں سے کہلاتے ہوں اور ایمان کے لحاظ سے مومن ہی کہلائیں گے مگر بے وقوفی میں ان کو یہ علم نہیں کہ کون ساسچا سودا ہے کون سا جھوٹا سودا ہے۔وہ اپنے نفس پر رحم کر کے مشقتوں سے بچتے ہیں لیکن دوسری مشقتوں میں مبتلا کئے جاتے ہیں۔ایسے لوگوں کے لئے کم سے کم اتنی خوشخبری ضرور ہے کہ وہ مشقتوں میں مبتلا کئے جاتے ہیں۔یہ ایک قسم کا کفارہ ہو جاتا ہے لیکن اگر اللہ چاہے تو۔ایسے بھی ہو سکتے ہیں جن کا کوئی کفارہ نہ ہوصرف ایک سزا ہو