خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 48 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 48

خطبات طاہر جلد 17 48 خطبہ جمعہ 16 جنوری 1998ء اب جو حقیقی بہانہ جو ہیں جن کا دل سچ سچ رمضان کی آمد سے خوش نہیں ہوتا ان میں اور سچے مومنوں میں جو دل سے رمضان کو برا نہیں جانتے اس کے فیوض سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں یہ نمایاں فرق ہے کہ سچے لوگ جب رمضان میں داخل ہوتے ہیں تو ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ جس طرح بھی بن پڑے وہ روزہ رکھیں اور بیماریوں کے بہانے ان کی راہ میں حائل نہ ہوں اور جو بہا نہ جولوگ ہیں جو رمضان کی آمد سے خوش نہیں ہوتے ان کے نفس کے بہانے تیزی دکھانے لگتے ہیں۔کوئی کہتا ہے کہ مجھے جب میں روزہ رکھوں تو چھینکیں شروع ہو جاتی ہیں۔کوئی سمجھتا ہے کہ اس کے پیٹ میں خرابی ہو جاتی ہے ، کسی کو سر درد ہو جاتی ہے، کسی کو اور بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں غرض یہ کہ وہ روزمرہ کی بیماریاں جو اس کو لاحق ہوتی ہی رہتی ہیں وہ رمضان کے سر جڑتا ہے اور کہتا ہے کہ اب تو میں خدا کا حکم مانوں گا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو روزہ نہیں رکھ سکتا بیماریوں کی وجہ سے وہ نہ رکھے تو کون ہے مجھے حکم دینے والا میں تو خدا کاحکم مانوں گا لیکن جب ان کا باقی سال آپ دیکھیں گے تو اس میں بھی نہیں رکھتے۔ایسے لوگ زندگی بھر محروم رہتے ہیں ورنہ کم سے کم باقی وقت تو رکھیں۔جو واقعہ سچے عذر کی وجہ سے رکتے ہیں، اللہ کی خاطر رکھتے ہیں وہ باقی سال میں ضرور رکھتے ہیں اور یہ لوگ اپنی عمر گنوا دیتے ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ان تحریرات کو غور سے پڑھیں تو ہمارے لئے بہت سے بار یک مسائل کو آپ کھولتے چلے جاتے ہیں۔(لیکن) جو صدق اور اخلاص سے رکھتا ہے۔(اس کا کیا حال ہے؟) خدا جانتا ہے کہ اس کے دل میں درد ہے اور خدا اُسے ثواب سے زیادہ بھی دیتا ہے کیونکہ دردِ دل ایک قابل قدر شے ہے۔پس روزہ سے محرومی کے نتیجہ میں اگر درد دل ہو تو ایک بہت ہی اعلیٰ نشان ہے اس بات کا کہ واقعہ تمہاری روزوں سے محرومی تمہیں ثواب سے محروم نہیں رکھے گی بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ بعض دفعہ ایسے درد دل والے کو عام روزہ رکھنے والے کے ثواب سے بھی زیادہ ثواب ملتا ہے۔اب ایسے بہت سے وجود ہمارے علم میں ہیں یعنی اپنے گردو پیش پر نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ روزہ نہ رکھنے کی بے قراری ان کو بے چین کرتی ہے اور وہ دعائیں کرتے ہیں، دعا ئیں کرواتے ہیں۔اس سلسلہ میں کئی ایسے احباب و خواتین ہیں جن کو میں جانتا ہوں کہ روزہ نہ رکھنے کے نتیجہ میں کس قدر ان کے دل میں کرب پایا جاتا ہے۔