خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 595
خطبات طاہر جلد 17 595 خطبہ جمعہ 28 اگست 1998ء کسی شخص کے دل میں ایمان اور کفر اور صدق اور کذب اکٹھے نہیں ہو سکتے۔لا يجتمعُ الصدقُ وَالْكَذِبُ جَمِيعًا، وَلَا تَجْتَمِعُ الْخِيَانَةُ وَالْأَمَانَةُ جَمِيعًا کہ کسی شخص کے دل میں نہ امانت اور خیانت اکٹھی ہو سکتی ہیں، نہ جھوٹ اور سچائی اکٹھے ہو سکتے ہیں۔“ (مسند احمد بن حنبل، مسند المكثرين من الصحابة، مسند أبى هريرة ،مسند نمبر : 8593) سوال یہ ہے کہ جھوٹ اور سچائی اکٹھے نہیں ہو سکتے کا مطلب کیا ہے۔یہ تو ظاہر بات ہے کہ ایک شخص جب سچ بول رہا ہے تو سچ ہی بول رہا ہے اس وقت اس کے دل میں جھوٹ نہیں ہوسکتا اور ایک شخص جو جھوٹ بول رہا ہے جب وہ جھوٹ بول رہا ہے تو جھوٹ ہی بول رہا ہے تو آنحضور صلی ہیم کا یہ فرمانا کہ ایک شخص کے دل میں جھوٹ اور سچ اکٹھے نہیں ہو سکتے اس کا کچھ اور ہی مطلب ہے اور کوئی بہت گہرا مطلب ہے۔گہرا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص جو سچا ہو اس کے دل میں کبھی بھی جھوٹ نہیں رہتا اور وہ شخص جو امانت دار ہو وہ کبھی بھی خائن نہیں ہوتا۔اس لئے بعض لوگوں کو یہ غلط نہی ہے کہ ہم جھوٹ بھی بولتے ہیں اور سچ بھی بولتے ہیں۔جب سچ بول رہے ہوں تو بچے ہوتے ہیں اور جب جھوٹ بول رہے ہوں تو جھوٹے ہوتے ہیں۔حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی ایتم نے اس مضمون کو گہرائی سے یوں بیان فرمایا کہ جو سچ بولنے والا ہے اس کے دل میں جھوٹ جھانک بھی نہیں سکتا، ناممکن ہے کہ اس کے دل میں جھوٹ اور سچ اس طرح ہوں کہ گویا ایک ہی گھر میں دونوں سمائے ہوئے ہوں اور یہی امانت دار کا حال ہے۔تو اس پہلو سے اپنے آپ کو پرکھ کر دیکھیں کہ کیا آپ ہمیشہ سچ ہی بولتے ہیں اور کبھی بھی جھوٹ نہیں بولتے سوائے اس کے کہ غیر ارادی طور پر بولا جائے ، وہ ایک الگ مسئلہ ہے۔اس کے متعلق بھی آنحضرت صلی یتیم کی کئی نصائح ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ غیر ارادی طور پر اگر جھوٹ بولا جائے تو وہ ایک سرسری سی چیز ہے جسے اللہ نظر انداز فرما دیتا ہے۔مثلاً باتوں باتوں میں زیب داستاں کے لئے بعض لوگ ایک چیز کو بڑھاتے رہتے ہیں۔اگر عادتاً جھوٹ نہ بولا جائے اور عادتاً بات کو نہ بڑھایا جائے تو کبھی کبھارا اتفاق سے ایسا ہو جانا یہ خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ میں نہیں لکھا جاتا۔پس بعض دفعہ سچے آدمیوں سے بھی یہ غلطی ہو جاتی ہے کہ بات کرتے کرتے ، کہانی کو سجانے کی خاطر کبھی ایسی بات بھی کہہ دیتے ہیں جو اس کہانی کا حقیقی حصہ نہیں ہوتا تو اس کے نتیجہ میں اس شخص کو جھوٹا نہیں کہا جا سکتا مگر جو عادتا سچا ہو اس سے ایسا واقعہ شاذ کے طور پر سرزد ہوتا ہے اور وہ بھی عمد ا نہیں۔