خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 589
خطبات طاہر جلد 17 589 خطبہ جمعہ 21 اگست 1998ء ایثار ہو ہی نہیں سکتا یعنی اس کی طرف منسوب کرنا بھی اس کی شدید گستاخی ہوگی کیونکہ پھر اس ایثار کے ساتھ وہ خدا خدارہ ہی نہیں سکتا۔اس ایثار کا نتیجہ تو یہ ہے کہ : یہ بھی ممکن ہوگا کہ وہ اپنی خدائی کسی دوسرے کو بطورا یا ر دے کر آپ معطل اور بے کار بیٹھ جائے یا اپنی صفات کا ملہ دوسرے کو عطا کر کے آپ ان صفات سے ہمیشہ کے لئے محروم رہے۔پس ایثار میں چیزوں کا دوسری طرف انتقال اس رنگ میں کرنا کہ آپ ان سے محروم رہ جائے یہ بنیادی بات ہے اور یہ بنیادی حقیقت ہے جس کو سمجھے بغیر آپ کو ایثار کے حقیقی معنی آہی نہیں سکتے۔فرماتے ہیں: سوایسا خیال خدا تعالیٰ کی جناب میں بڑی گستاخی ہے اور میں قبول نہیں کر سکتا کہ کوئی خدا ترس ، منصف مزاج یہ ناقص حالتیں خدائے ذوالجلال کے لئے پسند کرے گا۔ہاں بلا شبہ یہ صفت ایثار جس میں ناداری اور لاچاری اور ضعف اور محرومی شرط ہے ایک عاجز انسان کی نیک صفت ہے کہ باوجود یکہ دوسرے کو آرام پہنچا کر اپنے آرام کا سامان اس کے پاس باقی نہیں رہتا پھر بھی وہ اپنے پر سختی کر کے دوسرے کو آرام پہنچا دیتا ہے۔۔۔“ وو یہ ذرا لمبی عبارت تھی وقت کی مناسبت سے میں اس کو مختصر کر رہا ہوں۔۔۔۔یہ بھی یادر ہے کہ انسان کی صفت ایثار اس شرط سے قابل تحسین ہے کہ اس میں کوئی بے غیرتی اور دیوثی اور اتلاف حقوق نہ ہو۔“ کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ: 9997) یہ ایک بہت ہی اہم بنیادی بات ہے جس کو روز مرہ کی زندگی میں سمجھنا چاہئے۔بے غیرتی اور دیوٹی کا نام ایثار نہیں ہے۔شمالی چین میں بعض ایسے علاقے ہیں جہاں ایثار کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ انسان جو گھر میں آئے وہ گھر کا مالک اس طرح بنا دیا جائے کہ گھر کی بیوی بچوں وغیرہ پر بھی اس کو تصرف حاصل ہو۔یہ وہ اشارہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے فرمایا ہے کہ اس کا نام ایثار نہیں ہے، دیوئی ہے۔پس چونکہ وہ جاہل لوگ خدا سے بے بہرہ ہیں اس لئے انہوں نے ایثار کا ایک ایسا رنگ اختیار کر لیا جس کا حقیقی ایثار سے یا حیاداری سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں۔اس بات کو پیش نظر