خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 588 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 588

خطبات طاہر جلد 17 588 خطبہ جمعہ 21 اگست 1998ء تو ہے، بہت پیاری اور قابل تعریف صفت ہے مگر خدا میں نہیں ہے کیونکہ خدا کو اپنا کوئی حظ چھوڑنا نہیں پڑتا۔اس لئے جب بھی وہ بندے پر جھکتا ہے احسان سے جھکتا ہے، ایثار سے نہیں جھکتا۔اب یہ پہلو بھی بہت ہی لطیف پہلو ہے جو بعض ایسی صفات میں خدا کو بندے سے ممتاز کر کے دکھاتا ہے جو یا محض بندے میں ہوں گی یا محض خدا میں ہوں گی۔اپنی اپنی جگہ دونوں قابل تعریف ہیں مگر ایک دوسرے کی طرف منتقل نہیں ہو سکتیں۔ان کے درمیان ایک دائمی حد فاصل ہے۔اسے وہ صفات پار نہیں کر سکتیں۔لیکن خدا کی طرف منسوب نہیں ہوسکتی کیونکہ نہ تو وہ تواضع اور تذلل کے راہ سے کسی ترقی کا محتاج ہے۔“ اب انسان تو تواضع کرتا ہے اس لئے کہ اس کے نتیجہ میں اسے ترقی ملتی ہے۔وہ ترقی کیا ہے اللہ تعالیٰ کے قریب تر ہونا مگر اللہ کیوں تواضع کرے وہ تو کسی ترقی کا محتاج نہیں ہے۔وہ تو ترقیوں کا منبع ہے۔اسے کون سی اور ترقی کرنی ہے جس کی وجہ سے اس کو تو اضع کرنا پڑے۔اور نہ اس کی جناب میں یہ تجویز کر سکتے ہیں کہ وہ دوسروں کو کسی قسم کا آرام پہنچانے کے لئے اس بات کا محتاج ہے کہ اپنے تئیں مصیبت میں ڈالے۔“ اب دیکھ لیں بندہ جب بھی کسی کو آرام پہنچانے کے لئے جب کوئی ایثار کرتا ہے تولا زما اپنے آپ کو کچھ مصیبت میں ڈالتا ہے اور یہی چیز ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام توجہ دلا ر ہے ہیں کہ اللہ کسی کو آرام پہنچانے کی خاطر اپنے آپ کو مصیبت میں نہیں ڈالتا کیونکہ یہ اس کی شان کبریائی کے خلاف ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ : یہ بات قدرت تامہ اور نشانِ الوہیت اور جلال ازلی ابدی کے منافی ہے۔اور اگر وہ اس قسم کی ذلت اور مصیبت اور محرومی اپنے لئے روار کھ سکتا ہے تو پھر یہ بھی ممکن ہوگا کہ وہ۔اپنی خدائی کسی دوسرے کو بطور ایثا ر دے۔“ اب دیکھیں استدلال کا کیسا پیارا رنگ ہے کہ ایثار میں تو آپ اپنی ایک چیز دوسرے کو دے دیتے ہیں آرام دیں یا دولت دیں اور منفعت بخش چیزیں عطا کریں۔اپنی ایک چیز اپنے سے الگ کر کے دوسرے کو دیتے ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ سے اس قسم کا