خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 583
خطبات طاہر جلد 17 583 خطبہ جمعہ 21 اگست 1998ء چوکڑی مار کر بیٹھنا یعنی ویسے ممنوع تو نہیں ہے۔یہاں میرے سامنے کئی دوست ہیں جو چوکڑی مار کر بیٹھے ہوئے ہیں لیکن وہ ایک بڑی مجلس میں بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے لئے ممکن نہیں کہ اپنی چوکڑی کی عادت کو جو آرام کی عادت ہے بدل سکیں اس لئے وہ بھی کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعلی عنہ ایک ایسی مجلس کی بات کرتے ہیں جو چند آدمیوں کی مجلس ہوا کرتی تھی اور بعینہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے آپ کو بیٹھنا ہوتا تھا۔وہ حالت ایسی تھی جس میں چوکڑی مار کر بیٹھنا یقینا بے ادبی اور گستاخی ہوتی۔جاننے والے جانتے ہیں (یہ لکھتے ہیں مصلح موعودؓ کہ ) خواہ مجھے تکلیف بھی ہوتی مگر یہ جرات نہ کرتا اور نہ اونچی آواز سے کلام کرتا۔“ منصب خلافت از حضرت مرزا بشیر الدین محمود صاحب صفحہ : 33) تو اس میں ، حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس بات میں بہت بڑی نصیحت ہے ساری جماعت کے لئے اور اس سے حضرت مولوی شیر علی صاحب کے اوپر بھی ایک بہت اچھی روشنی پڑتی ہے۔آپ فرماتے ہیں : ” جاننے والے جانتے ہیں۔ان جاننے والوں میں میں نے ایک حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت دیکھی ہے اور روایتیں ہونگی تو میرے علم میں نہیں۔اب اس مضمون سے ہٹ کر ایک اور مضمون بیان کرتا ہوں جو آپ کے جلسہ کی مناسبت سے بیان کیا جانا ضروری ہے اور وہ ایثار کا مضمون ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَالَّذِينَ تَبَوَّةُ الدَّارَ وَ الْإِيْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِّمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الحشر :10) ایثار کا مضمون تو بہت وسیع ہے اور کئی قسم کی قربانیوں پر یہ مضمون پھیلا ہوا ہے لیکن آج اس خطاب میں میں ایثار کا صرف وہ حصہ بیان کروں گا جو جماعت احمد یہ جرمنی کے اس جلسہ سالانہ سے تعلق رکھتا ہے۔سب سے پہلے تو میں اس بات پر آپ کو خوشخبری دیتا ہوں اور مبارک باد دیتا ہوں کہ میں نے جماعت جرمنی میں اس پہلو سے بہت ایثار پایا ہے، اتنا کہ کسی اور جماعت میں ایثار ہو تو وہ لازماً خدا تعالیٰ کا شکر گزار ہو کہ اس نے ایثار کا حق ادا کرنے کی توفیق بخشی۔ایثار کے جتنے پہلو ہیں ان