خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 582 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 582

خطبات طاہر جلد 17 582 خطبہ جمعہ 21 اگست 1998ء حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق میں آپ کو بتا دوں کہ ان کو بھی کن انکھیوں سے دیکھنے کی عادت تھی۔بسا اوقات نظریں جھکی ہوتی تھیں مگر گر دو پیش میں جو ہورہا ہے اس سے باخبر رہتے تھے اور کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ ماحول میں جو باتیں ہو رہی ہوں ان سے بے خبر زمین پر نظریں گاڑ رکھی ہوں۔دیکھتے تھے ہلکی نظر سے پھر نظریں جھکا لیا کرتے تھے۔میں نے بھی مولوی صاحب کے ساتھ کھڑے ہو کر بہت نمازیں پڑھی ہیں۔کئی دفعہ احمد یہ ہوٹل کی مسجد میں آپ نے نماز پڑھنی شروع کی کیونکہ قرآن کریم کے انگریزی ترجمہ کے سلسلہ میں آپ کو لاہور چند مہینے ٹھہر نا پڑا تھا تو روزانہ صبح ہمارے ہوٹل کی مسجد میں نماز پڑھا کرتے تھے اور مجھے یہ توفیق مل گئی کہ میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا۔اس وقت میں نے آپ کو دیکھا کہ نماز کے بعد جب مجلس لگا کے بیٹھتے تھے تو تمام گر دو پیش کی خبر ہوتی تھی مگر عادتا آپ کی فطرت میں یہ بات تھی کہ اکثر آنکھیں جھکائے رکھتے تھے۔تو آپ کی گواہی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق میری اس گواہی کی تائید کرتی ہے کہ حضرت مولوی شیر علی صاحب کی نظر سے کوئی اہم بات نہیں رہتی تھی اور کسی اور نے حضرت خلیفہ اسیح الاول کی مجلس میں اس گہری نظر سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نہیں دیکھا جس طرح حضرت مولوی شیر علی صاحب نے دیکھا اور یہ آپ کی ایک یکتا روایت ہے۔چنانچہ اس کی تائید میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اپنی تحریر بھی ہے۔آپ کی روایت جاری ہے۔وہ فرماتے ہیں : آپ کے ادب کا یہ حال تھا کہ جب آپ حضرت خلیفہ امسیح الاول" کی خدمت میں جاتے تو آپ دوزانو ہو کر بیٹھ جاتے اور جتنا وقت آپ کی خدمت میں حاضر رہتے اسی طرح دوزانو ہی بیٹھے رہتے۔میں نے یہ بات کسی اور صاحب میں نہیں دیکھی۔“ تاریخ احمدیت جلد چہارم صفحه : 636) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا اپنا بیان بعینہ اس کی تائید کر رہا ہے۔منصب خلافت میں یہ عبارت درج ہے: پہلے تو میں ان سے بے تکلف تھا ( یعنی حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ تعالی عنہ سے بے تکلف تھا) اور دو دو گھنٹہ تک مباحثہ کرتا رہتا تھا لیکن جب وہ خلیفہ ہو گئے تو کبھی میں اُن کے سامنے چوکڑی مار کر بھی نہیں بیٹھا کرتا تھا۔“