خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 581 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 581

خطبات طاہر جلد 17 581 خطبہ جمعہ 21 اگست 1998ء گاڑ کر دیکھیں۔ہاں یہ انداز تھا کہ دیکھ رہے ہیں ، نظر ملتے ہی دوسری طرف رخ کر لیا یا آنکھ پھیر لی تا کہ گستاخی نہ بنے۔پس بسا اوقات بات کرنے والا آنکھوں میں بھی دیکھتا ہے مگر دیکھنے کے انداز مختلف ہوتے ہیں۔اگر دیکھ رہا ہو اور بات کرنے والے کی نظر پڑ جائے تو اس وقت جھجھک سے آنکھ ذرا سی ادھر اُدھر ہو جانی چاہئے اور بعض لوگوں کا دیکھنے کا انداز یہ ہوتا ہے کہ وہ دونوں آنکھوں کے درمیان ماتھے کے اوپر نظر رکھتے ہیں۔ہمارے ایک مرحوم ماموں سید محمود اللہ شاہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ان کا یہی انداز ہوا کرتا تھا۔حضرت مصلح موعودؓ سے کبھی ملنے آتے تو ہمیشہ اسی طرح دیکھتے تھے اور آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا کوئی سوال نہیں تھا اور دل کی پیاس بھی بجھ جاتی تھی کہ پورا چہرہ غور سے دیکھوں۔چنانچہ ایک دو دفعہ میں نے محسوس کیا کہ مجھے بھی اس طرح دیکھ رہے ہیں۔میں نے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے آپ کی نگاہیں میرے اوپر ہوتی ہیں مگر ملتی نہیں تو تب مجھے انہوں نے یہ راز سمجھایا کہ میں نے یہ ایک اپنے لئے ترکیب بنائی ہوئی ہے کہ ماتھے کے اوپر دو آنکھوں کے درمیان اس جگہ دیکھتا ہوں تو دیکھنے والے کو یہ محسوس نہیں ہوتا کہ مجھے دیکھ نہیں رہا اور میری نظریں بھی ادب کی وجہ سے آنکھوں میں آنکھیں نہیں ڈالتیں۔تو یہ بھی ایک انداز ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک صحابی جو عمر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے وصال کے وقت چھوٹے تھے مگر پھر بھی اتنے چھوٹے نہیں تھے کیونکہ میری والدہ سے عمر میں بڑے تھے اور میری والدہ کی بھی حضرت مسیح موعود علیہ ال والسلام کے زمانہ میں آپ کے ایک بچے سے شادی ہوئی۔پس اس وجہ سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی صحابہ ہی کا رنگ ہے جو حضرت سیدمحموداللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا۔حضرت خلیفہ امسیح الاول کی مجلس میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کیا انداز تھا یہ بھی الصلوة ایک دلچسپ واقعہ ہے جو میں نے آپ کے لئے چنا ہے۔حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ: ” خلافت اولی کے زمانہ میں میں نے دیکھا کہ جو ادب اور احترام اور جو اطاعت اور فرمانبرداری آپ ( یعنی حضرت مصلح موعود ) حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ تعالٰی عنہ کی کرتے تھے اس کا نمونہ کسی اور شخص میں نہیں پایا۔“