خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 580 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 580

خطبات طاہر جلد 17 580 خطبہ جمعہ 21 اگست 1998ء اب دیکھیں محبت کے تقاضے بدلے بھی نہیں مگر دونوں جگہ تکلف نہیں تھا۔یہ بنیادی بات ہے جسے آپ کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔اگر تکلف سے ادب کریں گے تو وہ ادب نہیں ہوگا ، وہ محض تکلف اور بناوٹ ہوگی۔اگر واقعہ اس مزاج کے مطابق جو اللہ نے آپ کو بخشا ہے اسی مزاج کی حدود میں رہتے ہوئے آپ محبت کریں گے تو یہ تکلف اور بناوٹ نہیں بلکہ طبعاً ایک محبت ہوگی۔اور اس کا ہر رنگ اچھا ہوگا اگر سنت صحابہ کو آپ پیش نظر رکھیں۔ایک ذکر حضرت مرزا ایوب بیگ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی ملتا ہے۔دو مجلس میں حضور کے بہت زیادہ قریب بیٹھتے اور ٹکٹکی لگا کر چہرہ مبارک کو دیکھتے اور پاؤں یا باز و یا کمر وغیرہ دباتے اور درود استغفار پڑھتے رہتے۔“ اب بعض لوگ اس روایت کا غلط مطلب سمجھتے ہیں۔یہاں ہرگز یہ نہیں کہا گیا کہ آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ٹکٹکی لگا کر دیکھتے تھے۔چہرے کو دیکھتے تھے اور چہرہ کو دیکھنا ایک الگ مضمون ہے۔اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ نظروں میں نظریں گاڑ کر دیکھتے تھے۔حضور کوئی تقریر تقویٰ ، طہارت کے متعلق فرماتے تو آپ کا پیراہن آنسوؤں سے تر ہو جاتا تھا۔اصحاب احمد جلد اول از ملک صلاح الدین ایم۔اے صفحہ: 97) پس دیکھنے کے متعلق یہ بات پیش نظر رکھیں کہ غالب کا ایک شعر جو مجھے بہت پسند ہے اور وہ اس مضمون کو بہت عمدگی سے بیان کر رہا ہے وہ یہ ہے : نظارہ نے بھی کام کیا واں نقاب کا مستی سے ہر نگہ ترے رخ پر بکھر گئی (میرزا اسد اللہ خان غالب) پس صحابہ کی نگاہیں حضرت اقدس محمد رسول اللہ الی یہ تم پر مستی سے بکھر جایا کرتی تھیں اور اس سے آنحضور صلی یا تم نے کبھی منع نہیں فرمایا اور یہی حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کا تھا۔چنانچہ مرزا ایوب بیگ صاحب یا دوسرے جن صحابہ کے ذکر میں آپ یہ بات پائیں گے وہ دیکھتے تو تھے مگر ایسے کہ دیکھتے بھی نہ ہوں یعنی نگا ہیں ہر طرف پھیل جاتی تھیں، بکھر جاتی تھیں اور کبھی ان صحابہ نے جرات نہیں کی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آنکھوں میں آنکھیں