خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 579
خطبات طاہر جلد 17 579 خطبہ جمعہ 21 اگست 1998ء آپ اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب دونوں کے مسیح موعود سے عشق میں کوئی بھی شک نہیں، رنگ اپنا اپنا تھا، مزاج الگ الگ تھے۔چنانچہ حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب ہلال پوری بیان کرتے ہیں کہ: وو ” حضرت مولوی صاحب ( یعنی حکیم مولوی نورالدین ) اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اپنے اپنے رنگ میں اخلاص اور محبت کے پتلے تھے لیکن دونوں کی طبائع میں نمایاں فرق تھا۔حضرت مولوی حکیم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب مسجد میں تشریف لایا کرتے تھے تو حضور کی مجلس میں سب سے آخر خاموشی کے ساتھ بیٹھ جایا کرتے تھے۔“ ( حیات نو راز عبدالقادر سابق سوداگرمل، باب چہارم صفحه : 263) یعنی بعض دفعہ وہاں جگہ ملتی جہاں جو تیاں پڑی ہوتی تھیں اور ایک صوبہ سرحد کے صحابی کو اس بناء پر خلافت سے وابستگی کی توفیق ملی کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ جب میں نے حضرت نورالدین رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ خلیفہ بن رہے ہیں تو بے اختیار میرے منہ سے نکلا کہ اس شخص نے تو جو تیوں سے خلافت پالی۔(انوار العلوم جلد 25 صفحہ: 506، 507 / خطاب حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرمودہ 27 اکتوبر 1956ء) پس ایک رنگ یہ بھی تھا انکساری کا کہ جوتیوں میں بیٹھے رہتے اور اسی انکساری کو خدا نے قبول فرمایا اور انہی جو تیوں سے آپ کو خلافت مل گئی اور خلافت بھی وہ جوصد یقیت کا مقام رکھتی تھی۔د لیکن حضرت مولانا عبد الکریم صاحب ہمیشہ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے اور سوالات کرنے سے کبھی ہچکچاتے نہیں تھے۔“ ย اب یہ دونوں صحابہ ہیں جن کے عشق کی گواہی خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دی ہے۔اس لئے اس سے انکار ممکن ہی نہیں۔بلکہ ( مولوی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ یہ خدا تعالیٰ کے مامور دُنیا میں روز روز نہیں آتے ، صدیوں بعد خوش قسمت لوگوں کو ان کی زیارت نصیب ہوتی ہے اس لئے جو سوالات ذہن میں آئیں وہ پیش کر کے دُنیا کی روحانی تشنگی کو بجھانے کا سامان پیدا کر لینا چاہئے۔“ حیات نور از عبد القادر سابق سود اگرمل، باب چہارم صفحه : 263)