خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 569
خطبات طاہر جلد 17 569 خطبہ جمعہ 14 اگست 1998ء مزگی تمہارے لئے پیدا کیا گیا ہے اس مزگی نفس کی صحبت میں رہو۔اگر یہ صحبت مل جائے تو وہ جو مسائل پہلے بیان کئے گئے ہیں یہ کرو، وہ کرو وہ تو بالکل آسان اور ہر قسم کی مشکل سے آزاد ہو جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” جب تک کسی مزگی نفس انسان کی صحبت میں نہ رہے۔( یہ کام جن کی طرف میں بلا رہا ہوں یہ ممکن نہیں ہیں ) اول دروازہ جو کھلتا ہے وہ گندگی دور ہونے سے کھلتا ہے۔(اب گندگی دور کیسے ہوتی ہے یہ بھی بڑا دلچسپ مضمون ہے جو مسیح موعود علیہ السلام نے آگے بڑھایا ہے ) جن پلید چیزوں کو مناسبت ہوتی ہے وہ اندر رہتی ہیں۔( یعنی انسان کا دل گندگی سے اس لئے بھرا رہتا ہے کہ ان سے اس کو ایک مناسبت ہوتی ہے) لیکن جب کوئی تریاقی صحبت مل جاتی ہے تو اندرونی پلیدی رفتہ رفتہ دور ہونی شروع ہوتی ہے۔“ کیونکہ پاک صحبت جب دل میں گھر کرتی ہے تو پلیدی خود بخود دوڑتی ہے۔یعنی یہ مراد نہیں کہ وہ آکے جھاڑو دیتا ہے آپ کے دل کو ، آپ کے لئے گندا کام بھی گویاوہ کرتا ہے۔یہ ایک بہت بار یک نکتہ ہے اگر دل میں کسی عظیم شخص کی محبت پیدا ہو جائے اور وہ دل میں گھر کر جائے تو اس کے نتیجہ میں پلیدی اس سے بھاگتی ہے، اس کو بھگانے کی ضرورت نہیں ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے جب یہ فرمایا وَ قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا تو یہی نکتہ ہے جو اس میں بیان فرمایا گیا۔حق آگیا یعنی ایک عظیم معنی اس کا یہ ہے کہ محمد رسول اللہ لینا ہی ہم آگئے۔وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ حق کے آتے ہی باطل نے دوڑ نا شروع کیا۔اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا کیونکہ اس بد بخت کے مقدر میں دوڑنے کے سوا ہے ہی کچھ نہیں۔وہ اس مقام پر ٹھہر نہیں سکتا۔جس مقام پر محمدرسول اللہ یا نیا ہی نہ جاگزیں ہو چکے تھے۔پس یہ وہ صحبت صالح ہے جس کا مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ذکر فرمارہے ہیں۔فرماتے ہیں: اندرونی پلیدی رفتہ رفتہ دور ہونی شروع ہوتی ہے کیونکہ پاکیزہ روح کے ساتھ جس کو قرآن کریم اور اسلام کی اصطلاح میں روح القدس کہتے ہیں۔“ روح القدس ایک فرشتہ کا نام بھی بیان کیا جاتا ہے مگر وہ روح القدس جس کی بات مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمارہے ہیں یہ آنحضرت سانی شاہی ستم کا پاک تصور ہے۔جس کو قرآن کریم اور اسلام کی اصطلاح میں روح القدس کہتے ہیں اس کے ساتھ تعلق نہیں ہو سکتا جب تک کہ مناسبت نہ ہو۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ تعلق کب تک پیدا ہو جاتا