خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 568
خطبات طاہر جلد 17 568 خطبہ جمعہ 14 اگست 1998ء میں سے اخذ کریں جو حضور اکرم سمایا تم نے ہمیں فرمائیں۔جسم کو پاک صاف رکھنا، ہر قسم کی بدیوں سے دور بھاگنا، جسم کی صفائی، ان میں سے ہر نصیحت ایک بہت بڑی نعمت ہے اور وہ سارے بدن کی صحت کے لئے انتہائی ضروری بن جاتی ہے۔یہاں تک نصیحت کہ کھانے سے کب ہا تھ کھینچنا ہے اور کن چیزوں میں تکلف نہیں کرنا، جو کھانا ہے وہ پاک ہو ، حلال ہی نہ ہو پاک بھی ہو۔جب بھی اس میں یہ شبہ ہو کہ وہ حلال تو ہے مگر پاک نہیں رہا اس کو اٹھا کے پھینک دو یا دوبارہ اتنا گرم کر لو کہ یقین ہو جائے کہ وہ ناپاکی اس میں سے مرگئی ہے۔یہ صرف چند چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں ان کا حد و شمار ہی نہیں ہے۔میں نے تو ہمیشہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی السلام کے احسانات کا تصور باندھا اور غور کیا تو حیران رہ گیا کہ کلیہ ساری زندگی کے لئے ہم غلامان مصطفی آپ سایہ ایک یتیم کے احسانات کے تلے اتنا دب چکے ہیں کہ کبھی سر اٹھانے کی جرات بھی نہیں کر سکتے۔جو صحابہ آپ صلی نما کی ستم کے سامنے آوازیں نیچی رکھتے تھے، جو ادب سے دیکھتے تھے ان کے متعلق یا درکھیں کہ صرف آوازیں ہی دھیمی نہیں رکھتے تھے نظریں بھی نیچی رکھا کرتے تھے۔اب میں خطبہ دیتا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ اکثر لوگ محبت کی وجہ سے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔رسول اللہ صلی ا یہ تم کے وقت یہ طریق نہیں تھا۔ان کو اس سے بہت زیادہ محبت تھی جو آپ کو مجھ سے ہے مگرا اپنی آواز میں بھی دھیمی رکھتے تھے اور اپنی نظروں کو بھی نیچا رکھتے تھے یہاں تک بعض صحابہ سے جب رسول اللہ صلی السلام کے وصال کے بعد پوچھا گیا کہ آپ مینی یا ستم کی شکل کیسی تھی تو دھاڑیں مار مار کے رونے لگے، زار و قطار رونے لگے، اتنا حسین چہرہ تھا کہ میں چاہتا بھی تو نظر پڑ ہی نہیں سکتی تھی اور پھر محبت اور عشق کے تقاضے کے نتیجے میں مجھے جرات بھی نہیں ہوتی تھی کہ میں گھور کے دیکھوں ، غور سے دیکھوں۔اب میں یاد کرتا ہوں اور جب مجھ سے کوئی پوچھتا ہے تو میں بتا نہیں سکتا کہ رسول اللہ صلی یا پیہم کے چہرے کی تفصیل کیا تھی۔پس یہ سارے وہ آداب ہیں جو آنحضرت مسئلہ یہ تم سے ہم نے سیکھے ہیں۔اب ان پر غور کریں تو ہمیشہ ہمیش کے لئے آپ ان آداب کے احسان کے طور پر رسول اللہ صل للہ یہ تم کی تو قیر کرتے چلے جائیں گے اور آپ صلی للہ اسلام کی عظمت کا تصور آپ کے دل میں بڑھتا چلا جائے گا، اپنے آپ کو ہمیشہ زیر بار سمجھیں گے اور یہ وہ صحبت ہے جس صحبت کا قرآن کریم نے ذکر فرمایا ہے کہ یہ