خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 567 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 567

خطبات طاہر جلد 17 567 خطبہ جمعہ 14 اگست 1998ء شمار ممکن ہی نہیں ہے۔روزمرہ کی زندگی میں چھوٹی سے چھوٹی نصیحت آپ صلی یا الہی تم نے پیچھے چھوڑ دی جس سے انسانی زندگی کی کایا پلٹ جاتی ہے۔کئی لوگ دانتوں کی بیماریوں میں مبتلا رہتے ہیں۔آج کل کے جدید ترین ڈاکٹر بھی ان کا کوئی مؤثر علاج نہیں کر سکتے۔جو گل گئے دانت گل گئے لیکن حضرت رسول اللہ لی لی ہم کی یہ عادت تھی اور اسی کی نصیحت فرماتے تھے کہ ہر نماز سے پہلے اچھی طرح مسواک کرو۔اگر پانچ وقت کسی کو دانت صاف کرنے کی عادت ہو اور بچوں کو بھی جو آپ ضرور سکھاتے ہیں کہ یہ عادت ڈال دیں تو کیسے ممکن ہے کہ عمر کے کسی حصہ میں بھی ان کے دانت خراب ہو جائیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ کوتاہیوں کے نتیجہ میں انسان کی عادت نہ رہی ہو تو پھر جو وہ دانتوں پر برا اثر پڑ جاتا ہے یہ الگ مسئلہ ہے۔بعض بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جن کا مسواک کی عادت سے تعلق نہیں وہ اندرونی بیماریاں ہیں۔حضرت اقدس محمدرسول اللہ لا یہ تم بیماریوں کا ذکر نہیں فرمار ہے۔آپ صلی ا یستم فرمارہے ہیں جو دانت تمہیں خدا نے دیئے ہیں جس حالت میں دیئے ہیں ان کی حفاظت تم پر فرض ہے۔اگر اچھے دانتوں والا پانچ وقت کی اس عادت کو اپنا لے تو کبھی اس کے دانت خراب نہیں ہوں گے۔چنانچہ میری ملاقاتوں پہ جو لوگ آتے ہیں ان میں بعض دفعہ نیا دولہا، دلہن ، بہت خوبصورت دانت، ہنستے ہیں تو موتیوں کی طرح دانت دکھائی دیتے ہیں ان کو میں ضرور نصیحت کیا کرتا ہوں۔میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے ایک نعمت عطا فرمائی ہے اور ایک اور نعمت بھی دی ہے دُنیا اس سے اعراض کرتی ہے لیکن آپ نے اعراض نہیں کرنا ، وہ محمد رسول اللہ لیا لیتی ہیں۔آپ اس نعمت کے سہارے اس ظاہری نعمت کی حفاظت کر سکتے ہیں۔آپ سی ایل ایلن نے فرمایا ہے کہ پانچ وقت مسواک کیا کرو آج کل مسواک نہیں تو ٹوتھ پیسٹیں ہر قسم کی موجود ہیں۔اگر پانچ وقت کرو تو ساری زندگی دانت صاف رہیں گے اور لوگوں کا یہ خیال ہے کہ عمر کے ساتھ دانت ضرور جھڑتے ہیں یہ غلط ہے۔عمر کے ساتھ جو اچھے دانت جن کی حفاظت کی جائے وہ مضبوط بھی رہتے ہیں کیونکہ دانتوں کی مضبوطی کا تعلق مسوڑھوں کی مضبوطی سے ہے اور جب آپ ان کی پانچ وقت صفائی کریں تو وہ جراثیم مسوڑھوں کو نرم ہونے ہی نہیں دیتے وہ ہمیشہ ٹھیک رہتے ہیں۔پس یہ وہ صحبت ہے جس کا میں ذکر کر رہا ہوں۔ایک معمولی، چھوٹی سی مثال میں نے آپ کے سامنے رکھی ہے۔اس صحبت کے لئے آپ مالی شما ایام کے نعمت ہونے کا تصور اُن روز مرہ کی نصیحتوں