خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 566 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 566

خطبات طاہر جلد 17 566 خطبہ جمعہ 14 اگست 1998ء اب جتنے مشکل مقامات کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بلاتے ہیں ہمیشہ بلا استثناء ان کا آسان حل بھی تجویز فرما دیتے ہیں اور اس آسان حل سے وابستہ جو مشکلات ہیں ان کا بھی آسان حل تجویز فرماتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ آغاز جو بڑا مشکل آغاز تھا اس آغاز کا انجام آسان بنا دیتے ہیں تا کہ جماعت کے ہر چھوٹے بڑے کو اس پر عمل کرنا آسان ہو جائے۔اب یہ بات بھی غور سے سن لیں کہ اس کو کیسے آسان بنایا۔فرمایا ترکیہ اخلاق اور نفس کا مشکل کام ہے۔ہر روز امتحان لو، کیسے امتحان لو کہ ہر وقت ان باتوں کی طرف خیال رہے گا اس کے لئے ضروری ہے کہ کسی مرگی نفس انسان کی صحبت میں آؤ۔خدا تعالیٰ نے اس غرض سے مزگی بنایا ہوا ہے کسی کو اور قرآن کریم نے وہ مزگی آنحضرت صلہ تم کو پیش فرمایا ہے۔آنحضرت ملا کہ تم اس وقت ہم میں موجود نہیں لیکن مزگی پھر کیسے ہوئے ، کیسے ہم آنحضور صلی ا یتیم کی صحبت اختیار کر سکتے ہیں؟ اگر صحبت اختیار کریں گے تو از خود تزکیہ ہونا شروع ہو جائے گا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک معنی یہ پیش فرمایا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے رسول اللہ صلی شما ایلم کی صحبت سے ، آپ مالی شام کی نصائح سے، آپ صلی ا یتیم کے نیک عمل کو دیکھ کر اپنا تزکیہ ایک حد تک کر لیا ہے اگر توفیق ملے تو ان لوگوں کے ساتھ رہو۔جنہوں نے رسول اللہ سلینی ای ایم کے فیض سے اپنا تزکیہ کیا ہے وہ تزکیہ یافتہ لوگ آپ کا تزکیہ کرسکیں گے اور جو جو باتیں مشکل دکھائی دیتی ہیں آسان ہوتی چلی جائیں گی لیکن جن معنوں میں میں اس وقت بات رکھ رہا ہوں وہ براہ راست رسول اللہ صلی ایم کی صحبت کا مسئلہ ہے۔میرے نزدیک یہ ممکن ہے اور ان سارے مسائل کا جن کا ذکر گزرا ہے بہترین علاج یہ ہے۔سوتے جاگتے آنحضرت صلی شام کے ذکر سے آپ صلی یا یہ ستم کی صحبت اختیار کریں۔جب آپ رسول اللہ صلی شمالی نام پر درود بھیجتے ہیں، آپ صلی سیاہی یتیم کے احسانات کا تصور باندھتے ہیں تو وہ ایک صحبت ہے اور جب بھی آپ سوئیں اس کے نتیجہ میں بد خیالات از خود بھاگیں گے۔اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا - (بنی اسرائیل : 82) اس کو بھگانے کے لئے آپ کو محنت نہیں کرنی پڑے گی۔یہ ہو نہیں سکتا کہ رسول اللہ صلی شما اینم کے تصور کی صحبت ہوا اور بد خیالات وہاں راہ پا جائیں۔ممکن ہی نہیں ہے کہ بیک وقت یہ دونوں باتیں اکٹھی چل سکیں۔پس کتنا آسان مسئلہ ہے رسول اللہ صلی لا یتیم کی صحبت اختیار کرنا اور یہ صحبت احسانوں کو یاد کر کے ہو سکتی ہے ورنہ یہ بھی مشکل ہے۔آنحضرت صلی الہ تم نے جو ہم پر احسانات فرمائے ہیں ان کا تو