خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 565
خطبات طاہر جلد 17 565 خطبہ جمعہ 14 اگست 1998ء نظر بھی نہیں آتا۔یہ سلسلہ ہے جو اسی طرح سلسلہ وار آگے بڑھتا ہے۔تو اپنے نفس کے عیوب پر نظر رکھنا، ہمیشہ اس کی تلاش رکھنا، اس کے نتیجہ میں پھر نصیحت میں بغض کا کوئی پہلو باقی نہیں رہے گا اور جب بغض کا پہلو نہیں رہے گا تو پھر سوائے ہمدردی کے کوئی وجہ نہیں ہوگی کہ تم نصیحت کرو گے اور یہی ہے جو اللہ تعالیٰ اُمت مسلمہ سے چاہتا ہے۔آنحضرت صلی ا ہی ہم نے سوائے ہمدردی بنی نوع انسان کے کسی اور وجہ سے نصیحت نہیں کی اور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پوشیدہ بغض اور کبر کا جو ذکر فرمایا یہ روز مرہ کے تجربہ میں دکھائی دیتا ہے۔بچوں سے بھی وہ لوگ جو سختی سے بات کرتے ہیں اور سختی سے روکتے ہیں اگر وہ دل کو ٹٹول کر دیکھیں تو اس میں بھی ایک کبر ہوتا ہے۔اپنے بچے کو سامنے حقیر اور بے طاقت دیکھ رہے ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمیں غلبہ ان پر ملا ہوا ہے اور اس کبر کی وجہ سے ان کی نصیحت کے انداز ہی میں ایسی کڑوی بات داخل ہو جاتی ہے جس سے نصیحت بے کار جاتی ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نصائح کو باریکی سے پڑھیں اور باریکی سے ان پر عمل کرنا سیکھیں۔اس کا لازمی نتیجہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نکالا ہے: اگر خالص محبت سے وہ نصیحت کرتے ہوتے تو خدا ان کو اس آیت کے نیچے نہ لاتا۔بڑا سعید وہ ہے جو اول اپنے عیوب کو دیکھے۔ان کا پتا اس وقت لگتا ہے جب ہمیشہ امتحان لیتا ر ہے۔66 ( البدر جلد 3 نمبر 1 صفحہ: 7 مؤرخہ 8 مارچ 1904ء) اب یہ جو ہمیشگی کا امتحان ہے اس سے پتا چلا کہ کتنا مشکل موضوع ہے۔ہمیشہ امتحان لیتا ر ہے۔صبح شام جو بات انسان کہے یا سوچے اس کو پر کھے بھی اور یہ وہ مشکلات ہیں جن کے لئے وَاسْتَعِينُوا بالصبر والصلوۃ کا حکم ہے۔اگر صبر کے ساتھ اور عبادت کے ساتھ اور دن رات کی دعاؤں کے ساتھ خدا تعالیٰ سے مدد نہیں مانگو گے تو بہت مشکل کام ہے جس کی طرف تمہیں بلایا جا رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: یا درکھو اصلاح کے لئے صبر شرط ہے۔پھر دوسری بات یہ ہے کہ تزکیہ اخلاق اور نفس کا نہیں ہوسکتا جب تک کہ کسی مزگی نفس انسان کی صحبت میں نہ رہے۔“