خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 564
خطبات طاہر جلد 17 وو 564 خطبہ جمعہ 14 اگست 1998ء دوسرے کے عیوب کو نہ دیکھتا ر ہے بلکہ چاہئے کہ اپنے عیوب کو دیکھے کیونکہ خود تو وہ پابند ان امور کا نہیں ہوتا اس لئے آخر کا رلِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (الصف: 3) کا مصداق ہو جاتا ہے۔“ (البدر جلد 3 نمبر 1 صفحہ:7 مؤرخہ 8 مارچ1904ء) اگر اپنے عیوب نہیں دیکھے گا تو اپنے نفس کو نیکی کا حکم کیسے دے گا یہ ہے بنیادی بات۔اپنے عیوب کی تلاش اس آیت کا ایک لازمی حصہ بنتا ہے۔کوئی شخص اپنے نفس کو نیکی کی تعلیم نہیں دے سکتا جب تک اس کو معلوم نہ ہو کہ کن کن بدیوں کا شکار ہے۔بدیوں کا علم ہی نہیں تو نیکی کی تعلیم کیسے ہوسکتی ہے۔نیکی کا تو مطلب ہے بدیوں کو دور کرنا۔بدیاں دور ہوں گی تو نیکیوں کا سلسلہ شروع ہوگا۔ساتھ ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جو اپنی بدیوں کی تلاش شروع کر دیتا ہے وہ دوسروں کی بدیوں کی تلاش سے باز آ جاتا ہے۔یہ بہت ہی عظیم نفسیاتی نکتہ ہے جس کو بعض پہلے لوگوں نے اپنے طور پر ، قرآن کریم کی آیت کی تشریح کے طور پر نہیں ، اپنے طور پر پایا اور اس سے استفادہ کیا۔میں اس ضمن میں بہادر شاہ ظفر کا ایک شعر پہلے بھی پڑھ کر سنا تا رہا ہوں۔وہ کہتا ہے: بی تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر ، رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا کیسی گہری فطرت کی بات وہ کر گیا ہے۔اپنی برائیوں پر جب نظر پڑی تو اپنا وجود گندہ دکھائی دینے لگا اور اس کے بعد غیروں کے عیوب تلاش کرنے کا حوصلہ ہی باقی نہیں رہتا۔یہ وہ نکتہ ہے جسے اس آیت سے جوڑ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کھول کر بیان فرمایا ہے کیونکہ خود تو وہ پابند ان امور کا نہیں ہوتا اس لئے آخر کار لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ کا مصداق ہو جاتا ہے۔پھر اس پر اس سے زیادہ سخت فتویٰ قرآن کریم کا جاری ہو جاتا ہے کہ تم کیوں ایسی باتیں کہتے ہو جو کرتے نہیں۔اخلاص اور محبت سے کسی کو نصیحت کرنی بہت مشکل ہے لیکن بعض وقت نصیحت کرنے میں بھی ایک پوشیدہ بغض اور کبر ملا ہوا ہوتا ہے۔“ اخلاص اور محبت سے نصیحت کرنی مشکل ہے۔اخلاص اور محبت سے نصیحت تب ہی ہوسکتی ہے اگر دل کا پوشیدہ کبراٹھا کے باہر پھینک دیا جائے اور وہ جو ایک پوشیدہ کبر ہے وہ اپنی برائیوں کی تلاش کئے بغیر