خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 563
خطبات طاہر جلد 17 563 خطبہ جمعہ 14 اگست 1998ء دیکھیں گے زمین پر بیٹھے ہوتے ہیں کیونکہ زمین پر بیٹھنا ایک عاجزی کی علامت بھی ہے اور احتیاج کو ثابت کرتی ہے۔جو زمین پر بیٹھا ہو گا اس نے ہاتھ پھیلانے ہی ہیں تو جس کو خدا تعالیٰ یہ توفیق دے کہ وہ خاک بہ سر ہو جائے اس کے لئے مشکل نہیں ہے۔وہ اللہ سے مدد مانگے اور خواہ کتنے مشکل کام پر اللہ کی مدد طلب کر رہا ہو اللہ تعالیٰ اس کی اس عاجزی کو دیکھتے ہوئے اس پر ان راہوں کو آسان فرمادے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”حقیقت میں اس امر کی بہت بڑی ضرورت ہے کہ انسان کا قول اور فعل باہم ایک مطابقت رکھتے ہوں۔اگر ان میں مطابقت نہیں تو کچھ بھی نہیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے اَتَا مُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ یعنی تم لوگوں کو تو نیکی کا امر کرتے ہو مگر اپنے آپ کو اس امر نیکی کا مخاطب نہیں بناتے بلکہ بھول جاتے ہو۔‘‘اس ضمن میں جو ایک ترجمہ بعینہ عربی لغت کے مطابق ہے مگر عموماً یہاں بیان نہیں کیا جاتا وہ میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ میں اپنی جانیں تو مراد ہیں ہی مگر انفسکم سے مراد وَنَ اپنے اہل وعیال بھی ہیں اور بعینہ عربی لغت کے مطابق یہ ترجمہ جائز بلکہ اہمیت رکھتا ہے۔تو مراد یہ ہے کہ تم دنیا کی اصلاح کے لئے نکلو گے، اپنی اصلاح نہ کرو، اپنے بچوں کی بھی نہ کرو جو گھر میں تمہارے سامنے تمہاری اصلاح کے لئے مہیا ہیں تو کس منہ سے دُنیا کے سامنے نکلو گے۔یہ خیال ایک جھوٹا اور باطل خیال ہے کہ اس کے باوجود دُنیا تمہاری بات سن لے گی اور اس پر اثر پڑے گا۔تو یہ انفُسَكُم والا دوسرا معنی ہے کہ اپنے اہل وعیال، اپنے بچوں کو بھول جاتے ہو۔یہ وہ معنی ہے جو مسلسل بیان کر رہا ہوں اور آپ کو خصوصیت سے اس کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ایک اور معنی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بیان فرمایا ہے: ” خدا تعالیٰ فرماتا ہے آتَامُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمُ اس کا یہی مطلب ہے کہ اپنے نفس کو فراموش کر کے دوسرے کے عیوب کو نہ دیکھتا رہے۔“ اب یہ ایسا لطیف معنی ہے جس کا میرے علم کے مطابق کسی دوسرے مفسر کو کبھی خیال نہیں آیا۔نیکی کا حکم دینا تو صاف نظر آ رہا ہے مگر اس کا یہ نتیجہ نکالنا کہ دوسروں کے عیوب ڈھونڈ تار ہے۔یہ بہت گہرا نفسیاتی نکتہ ہے جسے جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے گہرائی میں ڈوب کر سمجھا ہے آپ کو بھی سمجھنا چاہئے۔