خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 561
خطبات طاہر جلد 17 561 خطبہ جمعہ 14 اگست 1998ء جھوٹوں کے ساتھ دنیا میں عزت اور توقیر پا جاؤں گا لیکن چھوٹے معاملات میں گھر میں ہر روز کی چھوٹی چھوٹی زندگی کی باتوں میں جھوٹ نہ بولنا بہت بڑی آزمائش ہے، بہت کڑی آزمائش ہے۔ اس آزمائش پہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بڑھ کر کبھی آپ کوئی آدمی نہیں دیکھیں گے جو اس طرح پورا اترا ہو۔ اور آپ کو اپنے گھروں میں یہ دستور بنانا چاہئے اندر کی آزمائش کو سنبھال لیں، باہر اللہ تعالیٰ آپ کے وجود کو صاف ستھرا اور پاکیزہ وجود کے طور پر دنیا کے سامنے ظاہر فرمائے گا پھر آپ کے بڑے دعاوی بھی قبول کئے جائیں گے لیکن فطرت میں دو رنگی نہیں ہونی چاہئے ۔ یہ دورنگی ہے جو انسان کو برباد کر دیتی ہے۔ اب اس ضمن میں خواہ یہ بعض نوٹس جو میرے رہ گئے ان کے نتیجہ میں خطبہ چھوٹا بھی ہو تو حرج نہیں کیونکہ ان آیات میں آئندہ آتَامُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ سے متعلق جو میں باتیں کہنا چاہتا ہوں اس میں یہ کافی اہم اور وسیع ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آتَامُرُونَ النَّاسَ بِالْبِر کی آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں : حقیقت میں اس امر کی بہت بڑی ضرورت ہے کہ انسان کا قول اور فعل باہم ایک مطابقت رکھتے ہوں۔ اگر ان میں مطابقت نہیں تو کچھ بھی نہیں ۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے آتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ یعنی تم لوگوں کو تو نیکی کا امر کرتے ہو مگر اپنے آپ کو اس امر نیکی کا مخاطب نہیں بناتے بلکہ بھی ، بلکہ بھول جاتے ہو۔“ 66 الحکم جلد 9 نمبر 16 صفحہ :2 مورخہ 10 مئی 1905ء) یہاں یہ بات قابل ذکر ہے اور میں اسی سے بات شروع کرتا ہوں کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو تفسیر صغیر میں ترجمہ پیش فرمایا ہے اس میں اس پہلے حصہ کو یہود کے متعلق اور سابقہ قوموں کے متعلق بیان فرمایا ہے ۔ أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَبَ سے وہ تو رات اور پہلی کتب مقدسہ مراد لی ہیں ۔ اس کی وجہ یہ حسن ظنی ہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آنحضرت ملا لا السلام کی امت کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ فرمائے کہ کیا تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے نفس کو بھول جاتے ہو حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو۔ امر واقعہ یہ ہے کہ یہود ایسا کیا کرتے تھے۔ اس لئے بھی حضرت مصلح موعود کا خیال ادھر گیا لیکن اگلی آیت صاف بتا رہی ہے کہ اُمت مسلمہ ہی