خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 45 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 45

خطبات طاہر جلد 17 45 خطبہ جمعہ 16 جنوری 1998ء گناہوں سے دور پھینک دے۔پس کشف کا احساس کافی نہیں، کشف کا مضمون ضروری ہے کہ کشف میں وہ مضمون ہو جو تقویٰ کا مضمون ہے۔اگر تقویٰ کا مضمون ہے تو انسان کو یہ کہنے کی ضرورت بھی نہیں کہ میں نے کشف دیکھا ہے۔اگر تقویٰ کا مضمون ہوگا تو کشف دیکھنے والا اپنے کشف کو چھپالے گا اور اس کے تذکرے نہیں کرے گا۔پس رمضان میں یہ ساری شرطیں اکٹھی پائی جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض الفاظ کو غلط معنی پہنا کر آپ میں سے کئی گمراہ بھی ہو سکتے ہیں۔یہ خیال کر کے کہ ہم بڑے صاحب کشف بن گئے رمضان میں، لوگوں سے تذکرے شروع کر دیں کہ یوں مجھے ہلکا سا جھونکا آیا میں نے کشف میں یہ دیکھ لیا یہ ساری باتیں بتانے کا جتنا شوق ہوگا اتنا ہی آپ کا کشف جھوٹا ہو گا لیکن بچے کشوف میں بعض دفعہ دوستوں اور عزیزوں کے متعلق خبر دی جاتی ہے اور وہ خبریں ایسی ہوتی ہیں جو سچی نکلتی ہیں۔پس ان خبروں کا تذکرہ کرنا تقویٰ کے خلاف نہیں اور ان کشوف کو جھوٹا قرار نہیں دیتا۔" ( پس ) خدا تعالیٰ کا منشا اس سے یہ ہے کہ ایک غذا کو کم کرو اور دوسری کو بڑھاؤ۔ہمیشہ روزہ دار کو یہ مد نظر رکھنا چاہئے کہ اس سے اتنا ہی مطلب نہیں ہے کہ بھوکا ر ہے بلکہ اسے چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہے تاکہ تبتل اور انقطاع حاصل ہو۔پس روزہ سے یہی مطلب ہے کہ انسان ایک روٹی کو چھوڑ کر جو صرف جسم کی پرورش کرتی ہے دوسری روٹی کو حاصل کرے جو روح کے لئے تسلی اور سیری کا باعث ہے اور جولوگ محض خدا کے لئے روزے رکھتے ہیں اور برے رسم کے طور پر نہیں رکھتے انہیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح اور تہلیل میں لگے رہیں جس سے دوسری غذا انہیں مل جاوے۔“ ( الحکم جلد 11 نمبر 2 صفحہ: 9 مؤرخہ 17 جنوری 1907ء) پھر روزہ اور نماز کی عبادتوں میں ایک فرق بیان فرمایا ہے۔روزہ اور نماز ہر دو عبادتیں ہیں۔روزے کا زور جسم پر ہے اور نماز کا زور روح پر ہے۔نماز سے ایک سوز و گداز پیدا ہوتی ہے اس واسطے وہ افضل ہے۔روزے سے کشوف پیدا ہوتے ہیں مگر یہ کیفیت بعض دفعہ جو گیوں میں بھی پیدا ہوسکتی ہے۔“